خطبات محمود (جلد 12) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ بھی میری ایسی مخالفت نہیں کر سکتا جس سے میں تباہ ہو جاؤں۔باقی شورش وغیرہ سے تو وہ ہی ڈر سکتا ہے جس کے نزدیک کامیابی کا معیار آدمیوں کی تعداد ہو میں اس کا قائل نہیں ہوں۔رسول کریم اللہ نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کی وفات پر صرف ایک شخص ان پر ایمان لانے والا تھا۔پس اگر میرے ساتھ دو آدمی بھی رہ جائیں گے جب بھی میں ان انبیاء سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے والا ہوں گا۔پس یہ فضول بات ہے کہ کہا جائے اس طرح کیا تو یہ ہو جائے گا۔میں کسی سے ڈر کر اسلامی شعائر کی بے حرمتی کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوسکتا۔اگر سکول بند ہو گیا تو کیا ہوگا ؟ ہمارے پاس کالج نہیں تو کیا ہوا؟ کیا ہم بغیر اس کے مر گئے ہیں؟ جب یہ مدارس اس مقصد کو پورا کرنے والے ثابت نہ ہوں جن کے لئے قائم کئے گئے تھے تو پھر ان کی ضرورت ہی کیا ہے۔پس میں نظارت کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں کہ وہ اس بات کی طرف خاص خیال رکھے۔اس کی بے رغبتی اور اس سے قبل صدر انجمن کے بے تو جہی نے رغبت دین کو کم کر دیا ہے حالانکہ اگر دینی پہلو پر زور دیا جاتا تو طلباء کے اندر زندگی کی روح نظر آتی۔ان میں نماز کی با قاعدگی، تہجد وظائف اور ذکر الہی پر زور دینا چاہئے۔اس قد رافسوس کی بات ہے کہ جب میں درس دیتا ہوں اُس وقت تو شرم کے مارے لوگ آ جاتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا دے تو استاد طلباء کو روکتے ہیں کہ چلو کھیلو۔جس سے معلوم ہوا میرے درس میں بھی وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ میرے منہ کے لئے آتے ہیں۔لیکن ایسے عمل کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔طلباء کو چاہئے اپنے اندر دین کی روح پیدا کریں۔میں نے پہلے ایک بار توجہ دلائی تھی تو اس کا بہت اثر ہوا تھا۔بعض طلباء جو داڑھیاں منڈاتے تھے انہوں نے رکھ لیں، بعض سگریٹ پیتے تھے انہوں نے چھوڑ دیئے۔اب مجھے معلوم ہوا ہے پھر یہ وبائیں پیدا ہو رہی ہیں پس میں پھر انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح آپ کریں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے ان سے چھوٹی عمر کے طلباء دینی کام کرتے رہے ہیں۔میں خود جب بارہ تیرہ سال کا تھا تو میں نے انجمن تفخیذ الا ذبان قائم کی تھی اور سترہ برس کی عمر میں میں اس رسالہ کا ایڈیٹر تھا۔کئی ایسے طالب علم ہیں جو اس سے زیادہ علم رکھتے ہیں جو مجھے اُس وقت تھا خدا تعالٰی نے انہیں مجھے سے بڑھ کر کام کرنے کی قابلیت دی ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے اچھی صحت دی ہے اگر وہ چاہیں تو خوب کام کر سکتے ہیں۔پھر باہر کی