خطبات محمود (جلد 12) — Page 252
خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۰ء کرتے ہیں کہ تمہاری تعلیم میں حرج ہو گا۔یہ بے بیوقوفی کی بات ہے اس کا خیال نہ کرو۔مجھے نہایت ہی افسوس ہوا جب تعلیم کے ایک ذمہ دار افسر کے متعلق کسی غیر نے نہیں بلکہ اس کے دوسرے حصہ نے ایک بات بیان کی۔میری بیوی نے اس سال مدرسہ بنات کا نماز کا امتحان لیا تو معلوم ہوا کہ نویں جماعت کی لڑکیوں میں سے بھی ایک کے سوا کسی کو پوری نماز نہیں آتی۔اس پر انہوں نے کہہ دیا میں پھر امتحان لوں گی۔اُس وقت اگر کسی کو نماز نہ آئی تو اسے اس جماعت میں فیل کر دیا جائے گا۔ایک ذمہ دار افسر کی لڑکی نے اپنے گھر میں اس بات کا ذکر کیا تو اس کے اپنے گھر کی روایت ہے کہ باپ نے کہا بیٹی ڈرو نہیں کس کی طاقت ہے جو تجھے نماز نہ آنے کی وجہ سے فیل کر سکے۔جب نماز جیسی ضروری چیز کے متعلق ایک احمدی اور مامور د مرسل ربانی کا متبع کہلانے والا اس قدر تنگ اسلام ہو سکتا ہے کہ اپنی اولاد کی نماز کی ذمہ داری بھی اپنے سر لینے کے لئے تیار نہیں تو مجھے ایسے لوگوں کو مخاطب کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔پس اے ہمارے سکولوں کے طالب علمو! میں تم سے اور براہ راست تم سے کہتا ہوں کہ تمہارے استاد تمہاری جگہ خدا کے حضور جوابدہ نہیں ہوں گے۔انہوں نے تمہاری قبر میں نہیں جانا اور انہیں میں ایسا ہی نظر انداز کرتا ہوں کہ گویا وہ تھے ہی نہیں اس لئے تم خود دین کی طرف توجہ کرو خود اپنی اصلاح کرو اور تبلیغ احمدیت میں سرگرمی دکھاؤ۔میں تعلیم کی ذمہ دار نظارت کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایسا قانون ہمارے سارے مدارس کے لئے بنا دیا جائے (میں امتحان کے بعد خصوصیت سے اس امر کے متعلق پوچھوں گا) کہ سالانہ نماز کا امتحان ہوا کرے اور اگر کسی طالب علم کو نماز نہ آتی ہو تو اسے اوپر کی جماعت میں نہ چڑھایا جائے۔اگر اس انتظام کے قائم کرنے میں گورنمنٹ کی طرف سے کوئی روک ہو تو میری طرف سے انہیں اجازت ہے کہ بے شک ان مدارس کو توڑ دیا جائے۔اس کے جو نتائج ہوں گے جو شورش ہوگی یا فساد پیدا ہو گا ان سب کا میں ذمہ دار ہوں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں نے خلافت کسی شخص کی مدد سے حاصل نہیں کی اس لئے میں کسی شخص سے کبھی ڈرا نہیں ، نہ ڈرتا ہوں اور نہ کبھی ڈروں گا۔ابھی ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اس قدرشورش ہو رہی ہے کہ ڈر ہے بغاوت نہ ہو جائے۔کیا امان اللہ خان کی حالت آپ کو بھول گئی ہے میں نے انہیں کہا اگر امان اللہ خان سے بدتر حالت ہو جائے جب بھی میں نہیں ڈرتا کیونکہ میں جانتا ہوں چونکہ میرے کام اللہ تعالیٰ کے ارداہ کے ماتحت ہیں اس لئے فرشتے میرے مددگار ہیں۔پس کوئی