خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 254

خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۰ء جماعتوں کو بھی جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی متوجہ کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف خود دینی کاموں میں حصہ لیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا کریں، اپنے اپنے ہاں ہر ہفتہ جلسے کریں۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں جی ہم کیا کریں ہماری جماعت کے بڑے لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اصل میں بڑا وہ ہے جو دین کے کام میں تعاون کرتا ہے۔جو آ کر ہمارے ساتھ بیٹھ کر دینی امور کے لئے خدمات ادا کرنے کو تیار نہیں وہ ہرگز بڑا نہیں۔اس میں شک نہیں کہ دنیاوی عزت بھی ایک چیز ہے۔رسول کریم ہے سے کسی نے پوچھا کون سی قوم زیادہ عزت والی ہے؟ تو آپ نے فرمایا جو تو میں پہلے معزز تھیں وہ ایمان لانے کے بعد بھی معزز ہیں۔تو جو شخص عزت رکھتا ہے اور ساتھ ہی دینی کام میں ہمارے ساتھ شامل ہوتا ہے وہ تو بے شک ہمارے نزدیک بڑا ہونا چاہئے اور اس کا اعزاز اور احترام واجب ہے۔لیکن جو ایسا نہیں کرتا وہ کوئی معز نہیں کیونکہ صرف دنیاوی و جاہت کوئی قابل عزت چیز نہیں۔جو لوگ اس خیال سے کام چھوڑ دیتے ہیں کہ بڑے ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے ان کے نزدیک گویا روحانی فضیلت کوئی چیز نہیں اور دنیاوی عزت ہی اصل بڑائی ہے۔ورنہ جو شخص یہ سمجھ لے کہ میں خدا کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور اصل عزت دینی خدمت میں ہے وہ پھر اس بات سے کیونکر گھر اسکتا ہے کہ کوئی بیرسٹر یا ڈپٹی میرے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔اسے خود اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھنا چاہئے۔ورنہ جب یہ کہا جائے کہ بڑے آدمی ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بڑائی دین کے باہر ہے مگر یہ قطعاً غلط بات ہے۔میں تو ایسے بڑے لوگوں کو مُؤلَّفَةِ الْقُلُوب کہا کرتا ہوں۔بعض نادان کہہ دیتے ہیں آپ بڑوں سے خاص سلوک کرتے ہیں حالانکہ وہ سمجھتے نہیں۔قرآن کریم نے بھی ان کا خاص حصہ رکھا ہے۔نے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی رسول کریم نے ابو بکر ، عمر ، عثمان یا علی کو اتنا مال دیا جتنا مُؤلَّفَةِ الْقُلُوب کو دیتے تھے۔پس یہ کہنا کہ فلاں سے زیادہ سلوک کیا جاتا ہے اپنے ایمان سے ٹھٹھا کرنا ہے۔ہاں اگر مُؤَلَّفَةِ الْقُلُوب بھی ترقی کر کے ایمان کے درجہ پر آجائیں تو پھر ان سے بھی مساوی سلوک ہوگا۔ہر ایک کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ میں نے خدا کے لئے کام کرنا ہے کسی بڑے آدمی کے لئے نہیں کرنا۔اگر ایسے مفروضہ بڑے آدمی احمدی نہ ہوتے تو جب بھی ہم نے کام کرنا تھا۔خدا کی نظر میں سب بڑے ہیں۔دنیاوی عزت رکھنے والے ہمارے نزدیک اُسی وقت بڑے ہوں گے جب دینی روح بھی