خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 251

خطبات محمود ۲۵۱ کے نظام قائم ہوئے ہیں کہ دوست باہر جائیں اور تبلیغ کریں لیکن وہ ہمیشہ کڑھی کا اُبال ثابت ہوئے ہیں۔چند دوست اس کام کے لئے نکلتے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور جماعت کی ترقی رُک جاتی ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے صداقت دی ہے اور جو شخص صداقت کو لے کر کھڑا ہو وہ یقیناً کامیاب ہو کر رہتا ہے مگر افسوس کہ کوشش نہیں کی جاتی۔خاص ضلع گورداسپور میں سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جن میں کوئی احمدی نہیں۔جس بستی کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کے متحد کرنے کے لئے مرکز قرار دیا ہے اور جسے روحانی لحاظ سے ماں بنایا ہے اس کے ہی اردگرد ہم ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام نہیں پہنچا سکے۔نام پہنچانے کے یہ معنے نہیں کہ وہاں گالیاں دینے والے یا مخالفت کرنے والے نہیں بلکہ یہ ہیں کہ وہاں درود بھیجنے والے پیدا ہو جائیں۔سینکڑوں گاؤں اس ضلع میں ایسے ہیں جن میں ہماری جماعت نہیں لیکن اگر توجہ کی جائے تو بآسانی جماعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔اگر اس ضلع میں تبلیغ کی جائے تو باہر بھی آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں کیونکہ مرکز کے مضبوط ہونے کے ساتھ جماعت کا اقتدار اور رُعب بھی بڑھ جاتا ہے۔پس میں خصوصیت سے قادیان کے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔پچھلے دنوں طالب علموں نے یہ کام شروع کیا تھا لیکن وہ اکتوبر سے لے کر دسمبر تک ہی جاری رہا۔میں اب پھر طلباء کو خصوصاً مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلباء کو توجہ دلاتا ہوں کہ فارغ اوقات فضول ضائع کرنے کی بجائے آس پاس کے علاقہ میں جا کر تبلیغ کیا کریں۔اس طرح چلنے پھرنے سے ان کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑ جائے گا سلسلہ کا کام بھی ہوگا اور ساتھ ہی انہیں اس کام کی مشق بھی ہوتی جائے گی جس کے لئے وہ تیاری کر رہے ہیں۔پھر ان کے توجہ کرنے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو خود شرم آئے گی۔مدرسہ ہائی کے طلباء کو بھی میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور خواہ کوئی بُرا منائے یا ہنسی کرے کہ ان کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے لیکن میں براہ راست ہی طلباء کو مخاطب کرتا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں استاد بڑے سے لیکر چھوٹے تک تمام کے تمام اپنے طلباء میں دینی روح پیدا کرنے کے لئے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے بلکہ بسا اوقات روکیں پیدا کرتے ہیں۔میرے پاس رپورٹ پہنچی ہے کہ اگر کسی طالب علم کو تہجد پڑھنے کی نصیحت کی جائے تو خود استاد ہی اسے منع