خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 189

خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۲۹ء تو ہیں مگر ان کے اندر قوت جذب بہت کم ہوتی ہے جیسے ایک ہی جیسا پانی پہنچ ، فلالین، روئی اور ململ میں ڈالو تو ان سب کی قوت جذب میں فرق نظر آئے گا حالانکہ پانی سب میں برابر ڈالا گیا ہو گا۔اسی طرح ایک ہی وعظ میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ ایک سا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ایک کے کان میں آواز کم پڑتی ہے دوسرے کے کان میں زیادہ اس لئے بھی کہ بعض کی شنوائی کی قوت کم ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ بعض کو توجہ کی عادت بہت کم ہوتی ہے۔وہ مجلس میں بیٹھے تو ہوتے ہیں مگر ان کی توجہ دوسری جانب ہوتی ہے ابھی اپنے ارد گر دنظر ڈال کر دیکھ لو بعض تو غور سے خطبہ سن رہے ہوں گے بعض ادھر اُدھر دیکھ رہے ہوں گے بعض اونگھ رہے ہوں گے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب نے ایک ساسنا۔سب کے سننے میں فرق ہے اور اسی لئے ہر ایک کے استفادہ میں بھی فرق ہو گا۔بعض زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض کم کیونکہ توجہ میں فرق ہوتا ہے۔پھر آگے قابلیت میں بھی فرق ہوتا ہے ایک ہی پیغام دس آدمیوں کو دو اور پھر ان سے سنو تو ضرور فرق ہو گا۔پس اول تو سننے والے بھی کم ہوتے ہیں پھر سننے والوں میں سے سمجھنے والے اور بھی کم ہوتے ہیں۔سوجن کو اللہ تعالیٰ نے یہ استعداد دی ہے کہ وہ نہیں، سمجھیں اور پھر اس پر عمل کریں انہیں چاہئے دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔جب اکٹھے دریا میں گودنے لگیں تو ضرور اپنے ساتھیوں کا جو تیرنا نہ جانتے ہوں خیال رکھا جاتا ہے۔پھر کیوں ایسا نہیں کیا جاتا کہ جو کمزور روحانی امور میں سستی دکھاتے ہوں اور دینی کاموں میں حصہ کم لینے والے یا نہ لینے والے ہوں انہیں بھی توجہ دلائی جائے۔اسلام ہر ایک مؤمن کے لئے یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرے اور یہ ایسی مؤاخات اور مساوات ہے کہ اسلام کے سوا کہیں نظر نہیں آتی۔سب میں ایسا رابطہ اور رشتہ پیدا کر دیا ہے جو سب رشتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ایک شخص نماز کے لئے آتا ہے اور خیال کرتا ہے، ہمسایہ سو نہ گیا ہو اس لئے وہ گھر سے نکل کر سیدھا مسجد کی طرف جانے کی بجائے پہلے ہمسایہ کو آواز دے لیتا ہے اور اس کی آواز سے ہمسایہ نماز میں شریک ہو جاتا ہے تو اس کو بھی ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا خود پڑھنے والے کو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِه خیر کی طرف لے جانے والا ثواب کا ویسا ہی مستحق ہوتا ہے جیسا کہ نیکی کا کام کرنے والا۔تو صرف آواز دے دینے سے دو نمازوں کا