خطبات محمود (جلد 12) — Page 158
خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۲۹ء حاصل ہونے لگتی ہے۔غرض ظاہری عبادت بھی ضروری ہے لیکن اصل چیز دل کی پاکیزگی ہے۔جب یہ حاصل ہو جائے تو خواہ ایسے انسان کو ظاہری عبادت کا اتنا موقع نہ ملے جتنا کسی دوسرے کو ملتا ہے تا ہم وہ بدی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔بُرے اثرات سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے اور تقوی وطہارت میں ترقی کر سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔جہاں دوسرے ظلمت اور تاریکی میں بھٹک رہے ہوتے ہیں وہاں خدا تعالی اسے روشنی دکھاتا ہے۔پس مومن کو قلب کی صفائی اور پاکیزگی حاصل ہو جاتی ہے اور مند عالی کی محبت میں سرشار ہو جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف زبان سے کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے مجھے محبت ہے اللہ تعالیٰ مجھے اچھا لگتا ہے۔یہ تو الفاظ ہیں اور ہر شخص الفاظ اپنے منہ سے نکال سکتا ہے بلکہ مؤمن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں گداز ہوتا ہے اس میں رقت اور نرمی پیدا ہو جاتی ہے اس میں ایک نتڑپ اور جوش پایا جاتا ہے۔جب ایسی حالت پیدا ہو جائے۔خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کے قرب کی خواہش عشق کے درجہ تک پہنچ چکی ہو اس کا خیال آتے ہی نرمی اور محبت کے جذبات موجزن ہو جائیں تب دل کی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔یہی انسان کا اصل مقصود ہے اور اسی کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو پاسکتا ہے۔پس ہر اس شخص کو جو مومن کہلا تا ہو اس درجہ کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے یعنی دل کی پاکیزگی پیدا کرنی چاہئے ورنہ ظاہری اعمال کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔جو انسان خدا تعالی تک پہنچ جائے اس کے ذاتی لحاظ سے ظاہری عبادت کوئی اہمیت نہیں رکھتی یہ اسوہ اور نمونہ کے طور پر ہوتی ہے اور ضمنی چیز بن جاتی ہے۔مگر باوجود اس کے انبیاء اور دوسرے پاک لوگ ظاہری عبادت سے بالا نہیں ہو جاتے کیونکہ خدا تعالیٰ کے احکام میں ماننے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔آقا کا ہر حکم بڑا ہوتا ہے اور بندہ کا فرض ہے کہ سب احکام بجا لائے۔پس ظاہری عبادت کوئی ولی اور نبی نہیں چھوڑ سکتا لیکن نسبتی طور پر باطنی کیفیت کا درجہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے ظاہری اعمال کا گھٹتا جاتا ہے اور جوں جوں کو ئی شخص خدا تعالیٰ سے دور ہوتا جاتا ہے اس کے دل کی پاکیزگی کم ہوتی جاتی ہے اور اس کے لئے ظاہری اعمال کا درجہ بڑھتا جاتا ہے۔اگر یہ اندازہ لگایا جائے کہ ایک شخص نے اپنے جسم کو کتنا عرصہ عبادت میں لگایا اور دل کو کتنا تو معلوم ہوگا کہ پاک لوگوں کی ظاہری عبادت کم ہوگی مگر ان کا دل زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ رہا ہو گا۔مثلاً اگر دس منٹ عبادت کی گئی تو عام مسلمان کا دل ایک منٹ خدا تعالی کی طرف لگا ہو گا