خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 157

خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۲۹ء سمجھ کر ان کی نقل کرتے ہیں۔اسی طرح جب گھر کا بڑا آدمی یا استاد یا معلم یا واعظ یا پیر ظاہری طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اس سے تعلق رکھنے والے اس کی نقل کرتے ہیں۔اسی طرح ظاہری عبادت یہ اثر رکھتی ہے کہ نیکی دوسروں تک پھیلتی ہے اور دوسروں کو بھی دل کی پاکیزگی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔دل کی پاکیزگی انسان کے اپنے ساتھ تعلق رکھتی ہے دوسروں سے اس کا تعلق نہیں ہوتا اس لئے انسان کے اپنے لحاظ سے اور اس کی پیدائش کی غرض کے لحاظ سے ظاہری عبادت کا اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا دل کی پاکیزگی سے ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والی خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے والی اور انسان کی پیدائش کی غرض پوری کرنے والی چیز دل کی اصلاح اور دل کی پاکیزگی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جس میں حضرت ابو بکر بیٹھے تھے۔فرمایا۔اسے جو فضیلت حاصل ہے وہ ظاہری عبادتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ اُس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے یا پس ہو سکتا ہے ایک شخص ظاہری عبادت میں بہت بڑھا ہوا ہو مگر دل کی پاکیزگی اسے حاصل نہ ہو اور ہوسکتا ہے ایک شخص جس کا تعلق خدا تعالٰی سے بہت زیادہ ہو وہ ظاہری عبادت میں دوسرے سے کم ہو۔یہی وجہ ہے کہ شریعت نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں اور کچھ نوافل۔فرائض کی غرض یہ ہے کہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا قرب پاچکا ہو وہ بھی ان کی پابندی کرے تا کہ دوسرے لوگ اس کی نقل کریں اور ظاہری عبادت کے ذریعہ باطنی پاکیزگی کی طرف آئیں۔پس خدا تعالیٰ کے مقرب اور پاک بندوں کیلئے تو ظاہری عبادت اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے اندر کی کیفیت اس طرح باہر آئے اور لوگ اُس کی نقل کریں۔لیکن دوسروں کیلئے ظاہری عبادت اس لئے ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ دل کی پاکیزگی حاصل کر سکیں اور ان کے دل پاک ہو جائیں۔گو یا ظاہری عبادت دونوں کے لئے مقرر ہے لیکن دونوں کی غرض علیحدہ علیحدہ ہے۔جو خدا تعالیٰ کے نیک اور پاک بندے ہیں ان کے لئے ظاہری عبادت اس لئے مقرر نہیں کہ ان کے دل پاک ہوں یہ درجہ تو انہیں حاصل ہو چکا ہوتا ہے بلکہ اس لئے مقرر ہوتی ہے کہ لوگ انہیں دیکھیں اور ان کی نقل کر کے اپنے دل پاک کریں۔گویا ان کی عبادت عملی وعظ ہوتا ہے دوسروں کیلئے تا کہ وہ نقل کرتے کرتے اپنے اندر حقیقت پیدا کرلیں اور ظاہری عبادت کے ذریعہ ان میں حقیقت پیدا ہو جائے جیسے رونی صورت بنانے سے رقت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح ظاہری عبادت کرنے سے اندرونی پاکیزگی