خطبات محمود (جلد 12) — Page 135
خطبات محمود ۱۳۵ سال ۱۹۳۹ فیض ہوں انہیں اس طرح مانگنا کہ وہ اپنے لئے ہی نہ ہوں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہوں، ملک پر بھی ہوں، قوم پر بھی ہوں، محلہ والوں پر بھی ہوں اپنے خاندان کے افراد پر بھی ہوں، بیوی بچوں غرضیکہ ساری دنیا پر ہوں نَسْتَعِین میں جو استعانت طلب کی گئی ہے وہ مخفی رکھی ہے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور دعا کرنا خود ایک کام ہے یعنی پورے طور پر عابد ہونا۔یہ عام طور پر مشہور ہے ” بندگی بیچارگی عمل سے مدد مانگنا اصل مدد مانگنے کا طریق ہے۔کوئی کسی کو مارے پیٹے اور پھر ساتھ ہی اسے کہے کہ مجھے کچھ دو۔پھر لوگوں پر نگاہ نہ ہونے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے سے مطلب ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قانون بنایا ہے اس کے نیک نتائج پیدا کرے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو آکر لحاف اوڑھایا ہو یا کھانا منہ میں ڈالے بلکہ اس کا قانون مقرر ہے۔اللہ تعالیٰ کی امداد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے پیدا کردہ قانون کے ماتحت جو کام ہوتے ہیں ان کے اندر جو بار یک در بار یک مشکلات ہوتی ہیں ان سے بچانا۔پس استعانت کے معنی ہیں نیک نتائج کا نکلنا اور کمزوریوں کا دور ہونا۔پس ایاک نَسْتَعِينُ کا یہ مطلب ہے کہ ہم تجھ۔ہی مدد مانگتے ہیں۔صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کے لئے بھی۔عبودیت سے کام کرتے ہیں تیرے سوا کسی سے مدد نہیں مانگتے۔مدد لینا بُری بات نہیں ہے لیکن دوسرے انسان کو مدد دینے کے لئے کہنا بری بات ہے۔اگر تم کوئی کام کرنے لگے ہو۔اور تمہارے محلے کا آدمی آ کر تمہاری مدد کرنے لگے تو یہ بُری بات نہیں۔بُری بات یہ ہے کہ تم کام کرنے سے پہلے دوسرے کی امداد کی انتظار کرو۔محلہ والے کا خود آنا تو اچھی بات ہے لیکن یہ امید رکھنی کہ وہ آئے تو کام کیا جائے تو یہ بے غیرتی ہے پس یہ تینوں باتیں جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہیں ایک جملے میں آگئیں۔مسلمانوں کے تنزل کا سارا باعث یہی ہے کہ انہوں نے ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔پنجاب یو پی سی پی اور یہاں کشمیر کا ہی یہ حال نہیں تمام مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ہر جگہ کے مسلمانوں کو یہ انتظار ہے کہ کوئی اور آئے اور ان کی مدد کرے۔حالانکہ ہر روز جو انسان نماز پڑھتا ہے۔کم از کم چالیس بار روزانہ دن میں سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے اور بار بار یہ اقرار کرتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اکثر لوگ کرتے اس کے خلاف ہیں۔آج کل جہاں دیکھو اور جس ملک میں جاؤ ہٹے کٹے مشٹنڈے مسلمان سوال کرتے نظر آئیں گے حالانکہ اسلام میں سوال کرنا منع ہے۔ایک بار نبی کریم ہے کے پاس ایک سوالی آیا۔حضور