خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 136

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء نے اسے کچھ دیدیا۔پھر آیا تب بھی کچھ دیدیا اور پاس بٹھا کر فرمایا۔اللہ تعالیٰ کو سوال کرنا پسند نہیں ہے اور اسے دعا ئیں سکھلائیں اس کے بعد اس نے سوال کرنا چھوڑ دیا اور محنت کر کے کھانے لگا۔صحابہ میں اس قدر غیرت تھی کہ ایک دفعہ جبکہ گھمسان کی جنگ ہورہی تھی ایک صحابی کا جو گھوڑے پر سوار تھا کوڑ اگر پڑا۔دوسرے صحابی جو پاس تھے کوڑا اٹھا کر دینے لگے تو سوار صحابی نے انہیں خدا کی قسم دیکر کہا ایسا نہ کرنا حضرت نبی کریم اللہ نے سوال کرنے سے سخت منع فرمایا ہے۔اگر چہ میں نے زبان سے سوال نہیں کیا تا ہم خود کوڑا نہ اٹھا نا سوال ہی کی شکل ہے۔میں خود تاہم اٹھانا اُٹھاؤں گا۔اسی طرح حضرت عمر کے وقت آپ نے ایک شخص کو سوال کرتے دیکھا۔اور اس کی جھولی چھین لی اور اسے چھاتی پر مکا مارا اور فرمایا سوال کیوں کرتا ہے جا کر محنت کرو۔" آج کل ممفلس لوگ تو الگ رہے سب کے سب کسی نہ کسی رنگ میں سوالی ہیں۔غریب بیچارے تو کچھ پاس نہ ہونے کی وجہ سے سوال کرتے ہیں لیکن امراء جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے حکام کے دروازوں کے سامنے بیٹھے خطاب مانگتے ہیں گو یا مانگنے کی دونوں کو عادت ہے جیسے روٹی کا ٹکڑا مانگنا ہے ویسا ہی خطاب مانگنا ہے۔مسلمان خود محنت نہیں کرتے دوسروں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور یہی مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ ہے۔وہ اپنے دلوں میں ایک غلط عقیدہ جمائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ کہ عیسی آسمان سے آئے گا اور انہیں ساری دنیا کی دولت مال اسباب خود گھر بیٹھے بٹھائے دے دے گا یہ ان کی بے ہمتی اور بے غیرتی کی وجہ سے ہے۔اب صحابہ کرام کے زمانہ سے نسبتا دولت بھی زیادہ ہے۔تعلیم بھی زیادہ ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے اسباب بھی زیادہ ہیں مگر وہی سُست الوجود والی بات ہے کہ سپاہی اونٹ پر سے اترے اور چھاتی پر سے بیر اُٹھا کر منہ میں ڈالے یہ خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔جب بلقان کی جنگ شروع تھی اور میں حج پر گیا تو ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔میں اُس سے تلوار لیکر دیکھنے لگا تو اس نے کہا بچنا لگ نہ جائے۔وہ سمجھتا تھا کہ میں نے تلوار کبھی دیکھی نہیں۔میان سے نکال کر میں نے اسے پوچھا اسے کہاں استعمال کیا کرتے ہو؟ کہنے لگا جب دشمن کا حملہ ہو۔میں نے کہا دشمن نے تو حملہ کیا ہوا ہے پھر تمہیں کس وقت کی انتظار ہے۔کہنے لگا ہمیں لڑنے کی کیا ضرورت ہے عیسی جب آسمان سے آئے گا تو لڑائی کرے گا اور