خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 134

خطبات محمود مهم ١٣ سال ۱۹۲۹ء سے انسان بیمار ہو جائے گا اور اس طرح اس کے لئے مدنیت مضر ہو جاتی ہے۔یہ امر صحیح ہے کہ انسان تعاون کا محتاج ہوتا ہے لیکن صحیح تعاون کے معنی ہیں اپنی ذمہ داری ادا کر دینا اور دوسرے کو اس کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانا۔ایسا شخص جو اپنی ذمہ داری کو خو دا دا نہ کرے بلکہ دوسروں کی طرف دیکھے یعنی ایسا مدنی الطبع انسان جو اپنے کاموں کا انحصار دوسروں پر رکھے مشرک ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنا کام خود نہیں کرتا بلکہ دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔وہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں سے کام نہیں لیتا۔ایسا انسان دینی لحاظ سے مشرک کہلائے گا اور دنیوی لحاظ سے اپاہج اور ذلیل۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک سپاہی اونٹ پر سوار گذر رہا تھا کہ کچھ فاصلہ پر سڑک کے کنارے دو آدمی لیٹے پڑے تھے انہوں نے جب دیکھا کہ سڑک پر سے کوئی آدمی گزر رہا ہے تو آواز دے کر اسے اپنے پاس بلایا۔جب سپاہی ان کے پاس گیا تو ایک نے کہا بھائی میری چھاتی پر ایک بیر پڑا ہے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔یہ سن کر سپاہی حیران ہو گیا کہ یہ کونسی بڑی بات تھی جس کے لئے مجھے بلایا گیا اور میرے کام کا حرج کیا۔اس پر اُسے غصہ آیا اس نے کہا یہ سُست اور بے وقوف انسان ہے کہ چھاتی پر سے بیر اُٹھا کر بھی منہ میں نہیں ڈال سکتا۔اس نے جو پاس ہی لیٹا تھا سپاہی کو مخاطب کر کے کہا بھائی ! ایسے بے وقوف پر ناراض نہ ہو یہ تو ایسا نکھتا اور سست ہے کہ ساری رات گفتا میرا منہ چاہتا رہا ہے مگر اس نے بہش تک نہیں کی کہ وہ ہٹ جاتا۔سپاہی یہ سن کر اور بھی حیران ہوا اور انکی ستی کا خیال کر کے بننے لگا۔یہ مثال ان لوگوں کے متعلق بنائی گئی ہے جو دوسروں پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ اپنا معمولی سے معمولی کام بھی خود نہیں کرتے ورنہ ایسا واقعہ حقیقت میں نہ ہوا ہوگا۔ایسی حالت کا پیدا ہو جانا قومی تنزل کی علامت ہے۔سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں سکھائی ہیں اور یہ تینوں باتیں انسانی کمال اور ترقی کے لئے ضروری ہیں۔اوّل مدنیت یعنی تعاون تعاون کا مطلب یہ ہے کہ انسان لوگوں کے فائدہ کے کام کرے اور اس نیت سے نہ کرے کہ لوگ اس کا کریں گے بلکہ دوسروں کے احساسات اور ترقی کا اس کو خیال ہو۔دوسرے محنت کرنے والا خود عمل کرے اور عمل کے بعد نتائج کی طرف نگاہ ڈالے۔تیسرے۔دوسرے انسان پر تو کل نہ کرے۔غرض خود عمل کرنا، دوسروں پر تو کل نہ کرنا، دوسروں کی بھلائی کے لئے کوشش کرنا اور دوسروں کی مدد پر بھی بھروسہ نہ کرنا عمل کر کے اپنی ترقی کی راہیں نکالنا جو اللہ تعالی کے