خطبات محمود (جلد 12) — Page 133
خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۲۹ء اپنی مدد آپ کرو فرموده ۵ - جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن مجید میں ہماری تمام ترقیوں اور کامیابیوں کے گر بتائے گئے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار کے ساتھ اور اجمالی رنگ میں تمام حاجتوں کے حل کرنے کے گر بتا دیئے ہیں اور ایسی دعا سکھائی ہے جس سے مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔بہت سے لوگ دنیا میں تعاون کے غلط مفہوم کی وجہ سے دھوکا کھاتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ انسان کو ایک دوسرے کی مدد کے لئے پیدا کیا گیا ہے جانوروں کی طرح نہیں۔انسان آپس میں تقسیم عمل کرتے ہیں جانوروں میں یہ نہیں ہوگا۔مثلاً ایک شیر اپنی ضرورتیں خود پوری کرے گا اور وہ اپنے کھانے کے شکار کے لئے دوسرے شیر کا محتاج نہ ہوگا۔مگر انسان کوئی بھی ایسا نہیں جس کی ضروریات مختلف لوگوں سے متعلق نہ ہوں۔انسان تعاون سے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔اگر ایک انسان جنگل میں چلا جائے اور وہاں اپنا گزارہ جڑی بوٹیوں اور پتوں کے کھانے سے کرے تو کوئی اسے باہوش اور عقلمند نہیں کہے گا بلکہ وہ پاگل کہلائے گا۔جو خاصیتیں ایک شیر میں کمال کہلاتی ہیں وہ انسان کو ناقص ثابت کرتی ہیں یعنی شیر جس طرح زندگی بسر کرتا ہے اگر اسی طرح انسان بھی کرنے لگے تو وہ ناقص سمجھا جائے گا۔انسان میں شہریت اور مدنیت کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن اسی مدنیت کا غلط اور بے جا استعمال اس کے اندر غلطی پیدا کر دیتا ہے مثلاً عمدہ خوراک زیادہ استعمال کرنا زیادہ آرام کرنا زیادہ سونا زیادہ پینا یہ سب کام اندازہ سے زیادہ کرنے :