خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 11

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کہ اس طرح کیا گیا یا نہیں۔مسائل میں شرعی دلائل سے کام لیا گیا یا لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔اور اس عرصہ میں جو بحث کی گئی وہ بھڑ کانے کا پہلو رکھتی ہے یا نہیں۔یہ اصل ہے جس کے ماتحت مسائل کی بحث دیکھی جائے گی۔پہلے بحث کا یہی رنگ تھا جس کے لئے معاہدہ کیا گیا ورنہ ماں بہن کی گالیاں تو وہ پہلے بھی نہیں دیا کرتے تھے۔اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ میں اور مولوی محمد علی صاحب میں سے کس نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔دونوں جماعتوں میں سے کونسی جماعت نے اس کے مفہوم کے خلاف عملدرآمد کیا اور اخبارات میں سے کس نے اسے پس پشت ڈالا۔ان باتوں کا جو بھی فیصلہ ثالث کرے وہ خواہ غلط ہو یا صحیح دونوں فریق اسے تسلیم کریں اور جس کی زیادتی ثابت ہو وہ دوسرے سے معافی مانگے۔دوسرا فریق بھی اپنی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر سکتا ہے۔چونکہ جمگھٹے میں بسا اوقات ایسی باتیں ہو جاتی ہیں جن سے فساد کے اور بھی بڑھ جانے کا امکان ہوتا ہے اس لئے میرے خیال میں یہ طریق بہت بہتر ہے کہ ایک ایک وکیل ہی دونوں طرف سے پیش ہو۔اس کے بعد ثالث کے دل میں جو خدا تعالیٰ ڈالے وہ فیصلہ کر دے۔اس موضوع پر دوبارہ خطبہ بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ اس بات کو واضح کر دوں کہ یہ معاملہ کس قسم کا ہے تا کہ کوئی شخص غلطی سے اسے کوئی دینی مسئلہ نہ سمجھ لے نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دینی مسئلہ کے متعلق ثالث کے تقرر کو کبھی پسند کیا اور نہ ہی یہ کوئی دینی مسئلہ ہے جس کا فیصلہ ثالث کا کیا ہوا میں منظور کر رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن امور کے فیصلہ کے لئے ثالث مقرر کرنے کا اعلان کیا وہ تمام دنیوی علوم سے تعلق رکھتے ہیں۔پس نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی اعتراض وارد ہو سکتا ہے اور نہ ہی میرا یہ فعل قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے۔اور میرا یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسا کرنا ہر گز ہرگز اس بات کے لئے بطور مجت پیش نہیں کیا جا سکتا کہ دینی مسائل کا فیصلہ بھی ثالث کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔پھر اس لئے بھی کہ اگر ہماری جماعت میں سے کسی کے خلاف فیصلہ ہو تو وہ معافی مانگنے کے لئے تیار رہے۔بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر ثالث فیصلہ نہ بھی کرے تو بھی اگر کسی نے زیادتی کی ہو تو اسے معافی مانگ لینی چاہئے۔مجھے تو اگر ذرہ بھی شبہ ہوتا تو میں ایسے ہی انشراح صدر سے معافی مانگ لیتا جس طرح سے کہ حج یا نماز ادا کی جاتی ہے اور اسے اپنی ہتک ہر گز نہ سمجھتا بلکہ خدا تعالیٰ کی عبادت یقین کرتا۔