خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 10

خطبات محمود ۱۰ صلى الله گئیں ان کا ایک رشتہ دار بہت تلاش کے بعد اُن تک پہنچا اس وقت ان کی زندگی کے صرف چند منٹ باقی تھے۔رشتہ دار نے چاہا کہ ان کی زندگی کو بچانے کے لئے کچھ مدد کرے لیکن انہوں نے کہا کہ اب مدد کا موقع نہیں میرے پاس آؤ جب وہ پاس گیا تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔میں تمہارے ہاتھ کو رسول کریم ﷺ کا ہاتھ فرض کرتا ہوں اور اس سے مصافحہ کرتا ہوں تم رسول کریم ﷺ کو میر اسلام پہنچا دینا اور میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ میرے تمام رشتہ داروں سے کہہ دینا میں مر رہا ہوں مگر دنیا کی سب سے قیمتی چیز یعنی محمد رسول اللہ کو تم میں چھوڑے جاتا ہوں۔تمہیں خواہ کتنی ہی قربانیاں کرنی پڑیں کسی حالت میں بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑنا اور ہر طرح آپ کی حفاظت کرنا۔کے ظاہر ہے کہ جب ایسے لوگوں نے اس صحابی کے منہ سے بدلہ لینے کے الفاظ سُنے ہونگے تو انہیں کس قدر جوش آیا ہو گا۔اُن کی تلواریں میانوں سے تڑپ تڑپ کر باہر آ رہی ہونگی اور وہ چاہتے ہوں گے کہ اس کی بوٹی بوٹی اُڑا دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوتم بھی مجھے کہنی مارلو۔اُس صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اُس وقت جب آپ کی گہنی مجھے لگی میرا جسم نگا تھا۔اس پر آپ نے اپنا گرتا اٹھا کر اپنا جسم ننگا کر دیا۔وہ صحابی جُھکا اور نہایت ادب سے اُس مقام پر بوسہ دیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں چاہتا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں اور حضور کے مطہر جسم کو بوسہ دے کر برکت حاصل کروں کے لیکن یہ بات تو اس کے دل میں رسول کریم ﷺ کو تو اس کا کوئی علم نہ تھا۔آپ تو یہی سمجھتے تھے کہ یہ مجھے گہنی مارنا چاہتا ہے اور آپ نے اسی لئے اپنا جسم بھی نگا کر دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم نے کسی ایسی بات کو قیامت پر اُٹھا رکھنا نہیں چاہتے تھے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے مخالفوں میں ایسا اخلاص بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی موجود ہوتا تو یہ جھگڑا کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اور اب بھی اگر وہ اس فیصلہ پر آمادہ ہو جائیں تو نیک نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے۔میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے یہ طریق فیصلہ منظور ہے۔ہماری طرف سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وکیل ہونگے جو ہماری طرف سے سب باتیں پیش کریں گے۔طریق فیصلہ یہی ہوگا کہ پہلے اس معاہدہ کے معنی کئے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ مسائل پر بحث کس رنگ میں کرنی جائز تھی۔یوں تو پہلے بھی مسائل پر ہی بحث ہوتی تھی۔سوال یہ تھا کہ دوسرے کو ذلیل اور لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش نہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے گا