خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 9

خطبات محمود ٩ رسول کریم نے بھی ایسے معاملہ میں معافی مانگنے سے پر ہیز نہیں کیا۔جب آپ فوت ہونے لگے تو صحابہ سے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو اسے چاہئے کہ یہیں بدلہ لے لے غور کرو یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔آپ خاتم النبین تھے اور آپ کی وہ شان تھی کہ صحابہ آپ کے ایک ایک لفظ کو خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت سمجھتے تھے۔پس اگر رسول کریم ﷺ ایسا انسان اس علو شان کے باوجود اس امر کے لئے تیار ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لوگ اس کے لئے تیار نہ ہوں۔میں نے بار بار اپنے نفس کے ہر گوشہ میں تلاش کیا اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب سے میں خلافت پر متمکن ہوا جانتے بوجھتے نہ پبلک میں اور نہ پر ائیوٹ مجالس میں نہ تحریر میں اور نہ تقریر میں، میں نے ان لوگوں کے متعلق کبھی کوئی سخت کلمہ نہیں کہا بلکہ دوسروں نے بھی اگر کبھی سختی | کی تو ان کو روکا ہے۔پس میں خدا تعالیٰ کے سامنے تو بری ہوں۔وہ میرے اندرونہ اور باطن کو خوب جانتا ہے اور اُسی کو شاہد رکھ کر میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے دل میں نہ ظاہر میں پبلک میں نہ پرائیوٹ مجلس میں کسی کے متعلق کبھی کوئی بُری بات نہیں کہی بلکہ میں تو ان لوگوں کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔پس اگر خدا تعالیٰ کے سامنے اس یقینی براءت کے باوجود میں اس فیصلہ پر بھی جس کے غلط ہونے کا امکان ہو سکتا ہے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ مولوی محمد علی صاحب کو اس میں کوئی کلام ہو۔چتے ہوئے کسی کو ہماری ٹھوکر لگ جاتی ہے اور ہم اس وقت کیا آسانی سے کہہ دیتے ہیں معاف کیجئے۔پس جب چلتے چلتے ہم ذراسی ٹھوکر پر معافی مانگ لیتے ہیں۔تو جب معافی مانگنے سے سینکڑوں لوگوں میں اختلاف مٹ سکتا ہو اس کے لئے ہم کیوں تیار نہ ہوں۔میں نے رسول کریم یے کی مثال دی ہے اور اپنی وفات کے موقع پر آپ نے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو بتا دے اور بدلہ لے لے۔اس پر ایک صحابی نے کہا۔یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہوئی ہے اور میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ایک جنگ کے موقع پر آپ لشکر کی صف بندی کر رہے تھے اور کسی ضرورت سے آپ کو صف چیر کر نکلنا پڑا اور آپ کی گہنی مجھے لگی۔وہ لوگ جنہیں رسول کریم ﷺ سے عشق تھا اور جن کے عشق کی ایک ادنی مثال یہ ہے کہ ایک صحابی جنگ اُحد میں بہت سخت زخمی ہوئے ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ہڈیاں چور چھو رہو