خطبات محمود (جلد 11) — Page 520
خطبات محمود ۵۲۰ سال ۶۱۹۲۸ کچھ کے کچھ معنی کر دے۔پس عربی حروف مٹانے سے فائدہ تو کوئی نہیں ہو گا مگر اس سے قدیم اتحاد اسلام مٹ جائے گا۔علوم کسی خاص زبان کو اختیار کرنے سے نہیں بلکہ سیکھنے اور محنت کرنے سے بڑھتے ہیں۔جاپانیوں نے اپنی زبان کے حروف نہیں بدلے مگر پھر بھی انہوں نے اتنی ترقی کی ہے کہ ترک اور ایرانی ان کی برابری کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ان کے ممالک تو ابھی ریاستوں کی حیثیت رکھتے ہیں مگر جاپان ایک طاقت ہے۔اگر جاپان نے اپنے حروف میں ترقی کر لی تو سمجھ میں نہیں آتا یہ لوگ عربی حروف کو قائم رکھ کر کیوں ترقی نہیں کر سکتے۔پس ان کا یہ قدم غلط ہے اور فلسفہ اخلاق یا نفسیات کے لحاظ سے بھی غلط ہے۔قو میں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان پر قومیت کا رنگ ہو۔دوسری قومیں تو قومیت کی خاطر قدیم باتوں کی طرف واپس جا رہی ہیں آئرلینڈ نے اپنی پرانی زبان کو رائج کر دیا ہے اور انگریزی کو مٹایا جارہا ہے۔گویا اس نے تو جن کا رعب اور دبدبہ تھا ان کی زبان کو مٹاکر قدیم زبان جاری کرنے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے ان کی زبان کو جاری کر دیا حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ قانون بناتے کہ آئندہ ہم خالص عربی حروف میں لکھیں گے تا لوگوں میں قومیت کا رنگ پیدا ہو۔مگر بجائے اس کے ان کے اندر نقالی پیدا کی جارہی ہے کہ جو یورپ والے کرتے ہیں وہی ٹھیک ہے اپنا سب کچھ چھوڑ دو اور یورپ کی تقلید شروع کر دو۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ نسل جو نقل سے پیدا ہو گی وہ بندروں والی خاصیتیں تو بے شک رکھتی ہوگی مگر انسانوں جیسی نہیں رکھے گی۔اور اس کا ملک ملک نہیں ہو گا بلکہ ایک تھیٹر ہو گا اس کی اپنی دماغی قابلیت کچھ نہیں ہوگی اور وہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گی۔محمد رسول اللہ ا خدا تعالی سے حکم پا کر کھڑے ہوئے تھے۔آپ نے مسلمانوں میں امتیاز پیدا کرنے کے لئے فرمایا ایرانی اور شامی داڑھیاں منڈاتے ہیں مسلمان رکھا کریں کیونکہ جس قوم کی نقل کی جائے اس کا نقل کرنے والی قوم پر ہمیشہ رعب رہتا ہے اس لئے جہاں تک جائز ہو ان کی مخالفت کرد تا یہ روح پیدا ہو کہ ہم ان سے کسی طرح کم نہیں۔پس دیکھو اس روح نے ان لوگوں کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا۔وہ لوگ جو خود کہتے ہیں کہ ہم ڈاکے ڈالا کرتے تھے ان کے متعلق آج اکثر مخالف تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سیاست اور علم میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان کی یہ ترقی اسی روح کا نتیجہ تھی جو رسول کریم ﷺ نے ان میں پیدا کی بے شک یہ باتیں مذہب کا جزو نہیں لیکن قوم میں امنگ پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔اگر بادشاہ کسی خیال سے ہیٹ پہنے تو اور بات ہے لیکن یہ قانون پاس کرنا کہ سب لوگ