خطبات محمود (جلد 11) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ سال ۱۹۲۸م انھوں نے اس کے لئے کمیشن بٹھایا جس نے یہ فیصلہ کیا مگر ان کے دماغ کوئی خاص نہیں ہیں کہ جن ولا ئل کو وہ جانتے ہیں۔انھیں اور کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی یہ حرکت محض نقل سے زیادہ کچھ نہیں۔اور اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہ گنجے اپنے سر پر دوسرے بال لگا لیتے ہیں۔یا جج Wig پہن لیتے ہیں اور اسے وقار کی علامت سمجھتے ہیں کیونکہ پرانے زمانہ میں لوگ لمبے بال رکھتے تھے یہ نقل ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اب یہ مرض دوسرے ممالک میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے آہستہ آہستہ افغانستان میں بھی جس کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ وہ سب سے آخر اس کا شکار ہو گا پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔وہاں بھی ہیٹ اور انگریزی لباس پہنے اور داڑھی منڈانے کا حکم دیا گیا ہے۔اور اب ایران میں بھی حکومت اس قسم کے قواعد بنا رہی ہے جس سے افسروں کے لئے انگریزی لباس پہننا ضروری ہو گا اور جو نہ پہنے وہ سزا کا مستحق ہو گا۔اسی طرح یہ سکیم بھی زیر غور ہے کہ قدیم ایرانی حروف اختیار کر لئے جائیں نہ معلوم عربی نے کیا قصور کیا ہے حالانکہ ان کے آباء کا سارا ٹریچر اسی زبان میں ہے۔قوموں کی ترقی ان کے آباء کی روایتوں پر منحصر ہوتی ہے۔ان کی کتابیں عربی حروف میں لکھی ہوئی ہیں اب اگر عربی حروف کو مٹا دیا گیا تو آئندہ نسلیں ان کتابوں کو نہیں پڑھ سکیں گی اور اس طرح قرآن کریم سے وابستگی بھی کم ہو جائے گی۔اور تعجب نہیں کہ تھوڑے عرصہ تک افغانستان میں بھی یہی سوال پیدا ہو جائے کہ عربی حروف کو مٹا دیا جائے۔یہ کہنا کہ قرآن کریم بھی تو ان زبانوں میں لکھا جا سکتا ہے غلط ہے کیونکہ عربی میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو دوسری زبانوں میں صحیح طور پر ادا نہیں ہو سکتے۔مثلا ہے یہ اور کسی زبان میں نہیں اگر قرآن کریم دو سری زبان میں لکھا جائے تو اس میں ضرور غلطی ہو گی۔ز ف ظ ع ض کا فرق ان میں ادا نہیں کیا جاسکے گا۔اور پھر اور ایک نقص یہ ہے کہ اس طرح وہ عالمگیر اتحاد جو عربی کے ذریعہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں پایا جاتا تھا جاتا رہے گا۔اول تو قرآن کریم کسی اور زبان میں لکھا ہی نہیں جا سکتا اور اگر لکھا جائے تو وہ غلط ہو گا۔مثلاً انگریزی میں وَلَا الضَّالِّينَ نہیں لکھا جا سکتا۔وہاں یا توض کی جگہ دلکھا جائے گا۔یاڈ- اور ض میں جو چکر آتا ہے۔وہ کسی طرح بھی ادا نہیں کیا جاسکے گا۔عربی حروف کے مخارج کا فرق ہوتا ہے۔ہر حرف کے الگ معنے ہوتے ہیں۔ز ذ ظ ع ض سب کے الگ الگ معنی ہیں لیکن اگر سب کو 2 ( زیڈ) سے لکھ دیا جائے تو کوئی فرق میں رہے گا اور کوئی نہیں سمجھ سکے گا کہ یہاں کون سے معنی لگتے ہیں۔اور ممکن ہے کہ کوئی