خطبات محمود (جلد 11) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۲۱۹۴۸ ہیٹ ہی پہنیں اور داڑھیاں منڈا ئیں نہایت مضحکہ خیز ہے۔رسول کریم ﷺ نے مسلمان کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے عیسائی یا پارسی کو نہیں۔پس اگر کسی کا عقیدہ ہے کہ پگڑی پہنی ضروری ہے تو اگر چہ عقیدہ غلط ہی ہو اسے ہیٹ پہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔بتوں کی پرستش سے بڑھ کر احمقانہ عقیدہ اور کیا ہو گا مگر وہ بھی کسی سے زبر دستی چھڑانے کا مسلمان کو اختیار نہیں دیا گیا۔پس اگر کسی مسلمان کا عقیدہ ہے کہ پگڑی باندھنا سنت ہے تو کسی کا حق نہیں کہ اس کو ہیٹ پہنے پر مجبور کرے۔ہندوؤں نے علوم میں جو ترقی کی ہے وہ ایران اور افغانستان نے نہیں کی ان کے ڈاکٹر بوس سائنس میں اس قدر دسترس رکھتے ہیں کہ یورپ والے بھی ان کے آگے سر جھکاتے ہیں۔پھر ہندوستان کے ہندو ترکوں سے دولت میں بھی زیادہ ہیں۔ترکوں کی اپنی کوئی شپنگ ایجنسی نہیں مگر ہندوؤں کی ہے۔ترکی کا کوئی بڑا بنک نہیں مگر ہندوؤں کے بڑے بڑے بنگ ہیں۔ان کے صنعت و حرفت کے کوئی کارخانے نہیں مگر ہندوؤں کے ہیں۔ٹاٹا کمپنی یورپ کی کمپنیوں کا مقابلہ کرتی ہے۔غرض کہ ترک ہندوؤں سے کسی طرح بھی مقابلہ نہیں کر سکتے مگر ہندوؤں کے لیڈر اس قدر سادہ لباس میں ہوتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔پنڈت مالویہ کا لباس نہایت سادہ ہوتا ہے سر پر معمولی دو پلی ٹوپی ہوتی ہے۔یہی حال لالہ لاجپت رائے مسٹر کیلکر اور ڈاکٹر مونجے کا ہے۔ڈاکٹر مونجے کو دیکھ کر تو کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا کہ یہ کوئی بڑا لیڈر ہے۔معمولی پیٹی کا کوٹ اور دھوتی پہنتے ہیں۔مگر یہ لوگ یورپ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یورپ ان کی طاقت کو آج تسلیم کرتا ہے۔وہی گاندھی جو کسی زمانہ میں بہت اعلیٰ سوٹ پہنا کرتے تھے آج سوائے ایک دھجی کے ان کے بدن پر کوئی لباس نہیں مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کے دماغ میں نقص ہے یا وہ فلسفہ نہیں سمجھ سکتے۔جس قدر ولولہ ان کی دھوتی نے ہندوؤں میں پیدا کیا وہ کوٹ پتلون نہیں پیدا کر سکتے تھے۔تو گو مثالیں موجود ہیں مگر افسوس مسلمانوں نے سبق حاصل نہیں کیا۔میں نے پہلے ان امور کو دیکھا تو خیال کیا کہ یہ ترکوں پر مخالفین کے حملے ہیں۔مگر جب تصدیق ہوئی تو پھر میں نے سمجھا کہ شاید یہ وبا ترکوں تک ہی محدود رہے مگر اب دوسروں تک اس کے اثر کو دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ اپنی رائے اس کے متعلق بیان کردوں۔اور جہاں جہاں تک ہماری آواز سنی جائے ہم بتا دیں کہ یہ رستے ترقی کے نہیں۔ترقی کے لئے اسلام کی طرف توجہ کی ضرورت ہے اور اسلام میں جو ظاہری اتحاد ہے اسے مٹانا کسی مسلمان حکومت