خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 518

خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۲۸ء۔میں اپنی نا فرمانی کو اپنے گھوڑے کی نافرمانی میں دیکھ لیتا ہوں۔یعنی جب میرا گھوڑا چلتے چلتے رکھتا ہے اور میری اطاعت نہیں کرتا تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ مجھ سے بھی خدا تعالی کی کوئی نا فرمانی ہو ہے۔بات یہ ہے جتنا خدا تعالٰی سے تعلق زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی اس کے نتائج معمولی باتوں میں نظر آتے ہیں۔نادان ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ کافروں کے گھوڑے تو گھوڑ دوڑوں میں دوڑتے ہیں مگر ایک صوفی کا گھوڑا کیوں انکتا ہے۔صوفی کو خدا تعالیٰ ہر بات میں سبق دیتا ہے کیونکہ وہ اس کی طرف آرہا ہے اور اس کا محبوب بن رہا ہے مگر کافر چونکہ خدا تعالی کو چھوڑ کر الگ ہو گیا ہے اس لئے اس کے ہر فعل میں وہ جلوہ گر نہیں ہوتا۔پس مسلمانوں کی اس ذلت میں یقینا دینی کمزوری کا بھی دخل ہے۔لیکن افسوس مسلمانوں نے اسے سمجھا نہیں اور جب بھی قدم اٹھایا غلط ہی اٹھایا۔پہلے تو وہ افراد کے رنگ میں اٹھاتے تھے اب حکومت کے رنگ میں اٹھانے لگے ہیں اور وہ بھی غلط ہی اٹھا رہے ہیں۔ترک یورپین اثر سے آزاد ہوئے۔ہر مسلمان کو اس پر خوشی تھی مگر تھوڑے دنوں میں ہی انھوں نے بتا دیا کہ ان کی آزادی اسلامی احکام سے بھی آزادی تھی۔آہستہ آہستہ انھوں نے مذہب اور حکومت کے تعلق کو توڑنا شروع کیا پھر لباس میں تغیر شروع کیا، پھر عربی حروف چھوڑ کر ترکی الفاظ کو انگریزی میں لکھنا شروع کیا حالانکہ لاطینی زبان سے ان کے ملک کی ترقی کا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔اس کا صرف یہی نتیجہ ہو گا کہ قوم اپنے آباء کے آثار سے غافل ہو جائے گی اور جس آسانی سے وہ پہلے قرآن پڑھ سکتے تھے اب نہیں پڑھ سکیں گے جیسے اردو جاننے والے کے لئے قرآن شریف پڑھنا ہندی جاننے والے کی نسبت آسان ہوتا ہے کیونکہ اردو کے حروف عربی حروف سے ہندی کی نسبت بہت زیادہ ملتے ہیں ان میں تھوڑا ہی فرق ہوتا ہے۔عربی حروف کسی قدر ٹیڑھے کر کے لکھے جاتے ہیں پہلے تو ساری ترکی قوم قرآن پڑھ سکتی تھی مگر اب وہی پڑھ سکیں گے جو دوسری زبان سیکھیں گے اور دوسری زبان کا ساری قوم کے لئے سیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ہندوستان ، ایران ، افغانستان مصر، عرب وغیرہ میں قرآن پڑھنے والے بہت ملیں گے مگر چین میں بہت کم ہوں گے کیونکہ چینی اور عربی حروف میں بہت فرق ہے اس لئے صرف عالم ہی سیکھ سکتے ہیں۔تو انھوں نے عربی حروف کو مٹانے سے کوئی علم تو حاصل نہیں کیا مگر اسلام سے اپنا تعلق کم کر لیا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ حروف اسلام میں داخل نہیں لیکن جتنا عربی حروف کو مٹایا جائے گا قرآن کریم پڑھنے میں اتنی ہی رقتیں پیدا ہوتی جائیں گی اس کے خلاف فائدہ کوئی نہ ہو گا۔ترک لاکھ کہیں کہ