خطبات محمود (جلد 11) — Page 517
خطبات محمود ۵۱۷ سال ۶۱۹۲۸ آباء و اجداد نے بام ترقی تک پہنچایا تھا ان کے ہاتھ سے نکل کر غیر قوموں کے پاس چلے گئے۔گویا ان کے آبائی بلکہ یوں کہو کہ ان کے فطری ورثہ کی نگرانی بھی غیروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔كَلِمَةُ الحِكْمَةِ مَالَةُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا ا اچھی بات مؤمن کی اپنی چیز ہے جہاں مل جائے اسے لے لینی چاہئے۔پس علوم دراصل مسلمان کا فطری ورثہ ہیں جیسے کہ آبائی ورثہ کیونکہ وہ مومن تھا اور علم مؤمن کی اپنی چیز ہے۔مگر مسلمانوں کے اس آبائی بلکہ فطری ورثہ کے بھی دوسرے لوگ مالک ہو گئے۔پھر اقتصادی طور پر وہ دوسروں کے غلام ہو گئے۔صنعت و حرفت اور تجارت ان کے ہاتھ سے جاتی رہی بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ آہستہ آہستہ ان کے ہاتھوں سے محنت بھی جاتی رہی۔زراعت جس میں ایک زمانہ میں مسلمانوں نے بہت ترقی کی تھی اور اسلامی ممالک میں کثرت سے نہریں کھودی گئی تھیں اور اس کی ترقی کے دوسرے سامان بھی مہیا کئے گئے تھے وہ بھی انہوں نے کھو دی۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ جو قوم اپنی پہلی شان و شوکت بھی کھو بیٹھتی ہے وہ آئندہ ترقی نہیں کر سکتی اس لئے آئندہ کسی قسم کی ترقی تو در کنار وہ ہر بات میں دوسروں کا شکار ہونے لگ گئے۔عملی طور پر وہ دوسروں کے نقال ہو گئے گویا انھوں نے بندروں کی صورت اختیار کرلی۔سیاست میں اوروں کے غلام ہو گئے غرض کہ ہر میدان میں وہ پیچھے رہ گئے بلکہ ذلیل ہو گئے۔مسلمانوں کا دعوی ہے کہ یہ قوم اللہ کی مقبول اور پیاری ہے اگر یہ صحیح ہے تو ماننا پڑے گا کہ ان کی اس رسوائی میں دنیاوی نقائص کے علاوہ دینی کمزوری کا بھی دخل ہے۔جس قوم کو خدا تعالٰی نے اپنے دین کا جھنڈا سپرد کیا ہو اسے وہ کبھی گرنے نہیں دیتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو غیر مستحق نہ ثابت کر دے پس اس میں دینی کمزوری کا بھی دخل ہے۔یہ کہنا کہ یورپ نے انہی حالات میں ترقی کی ہے غلط ہے۔ان کے ہاتھ میں توحید کی کنجی نہیں دی گئی تھی اس لئے یورپ یا جاپان یا چین تو دین سے تغافل برت کر ترقی کر سکتے ہیں مگر مسلمانوں کو جن کے سپرد توحید کی امانت کی گئی تھی دین سے غفلت پر شکست ملنی ضروری ہے تا وہ پھر خدا کی طرف لوٹیں۔جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کی تو معمولی بات پر بھی ناراض ہوتا ہے اور اسے تنبیہ کرتا ہے اور اس کا نام تربیت رکھتا ہے۔مگر کسی غیر شخص کی سخت کلامی کو برداشت کر لیتا ہے اور اس پر خاموشی اختیار کر کے اس کا نام اخلاق رکھتا ہے۔اسی طرح جو قوم خدا تعالٰی کے لئے بطور انصار کے تھی اس کی دینی کمزوری کے ساتھ اسے دنیوی سزا کا ملنا ضروری تھا۔ایک صوفی نے لکھا ہے