خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 506

خطبات محمود 0-4 سال ۶۱۹۲۸ کر لی جائے تو ہمارے دشمن اس قدر زیادہ ہیں کہ پھر بھی وہ ان کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔اور اگر اس کا کچھ حصہ اپنوں کے مقابل میں بھی ضائع کر دیا جائے تو پھر تو اور بھی نقصان ہو گا۔کوئی فوج ایسی نہیں جو گولہ بارود اپنے ساتھیوں کے لئے ہی خرچ کرتی رہے اور پھر دشمن پر فتح یاب ہونے کی بھی امید رکھے۔انسان کو خدا تعالیٰ نے محدود پیدا کیا ہے اس کی طاقتیں بھی محدود ہیں۔جذبات وہ ذخیرے ہیں وہ سارے ہیں جن پر کھڑا ہو کر انسان کام کر سکتا ہے اگر انہیں ضائع کر دیا جائے تو قوت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔تعجب ہے کہ اس علمی زمانہ میں بھی لوگوں نے جذبات کی قوت کو نہیں سمجھا۔محبت ، غیرت ، رحم، لڑائی کی طاقت ، جذبہ انتقام یہ سارے اصل میں سہارے ہیں انجن ہیں جن سے جسم کی گاڑی چلتی ہے۔ان کو ضائع کر کے مت سمجھو کہ ہم نے اپنا کیا نقصان کیا ہے۔جس طرح انجمن سے دھواں نکالنے سے سٹیم ضائع ہو جاتی ہے اسی طرح خواہ مخواہ غصہ ہونے سے بھی انسان کی قوت عملیہ کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ ان معمولی باتوں کا بھی مستقبل پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔اگر ایک انسان کی زندگی کا انجن چالیس میل کی رفتار سے چلنا تھا تو ان نا واجب غموں سے ہیں میل ہی چلے گا۔پس نادان ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ غصہ تو میں دوسرے شخص پر ہوا ہوں میرا اس سے کیا نقصان ہوا وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنی سٹیم ضائع کر رہا ہے۔لڑائی سے دیگر نقصانات کے علاوہ اپنی قوت عملیہ کو بھی سخت نقصان پہنچتا ہے پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔پیشگوئیوں کا پورا کرنا بھی فرض ہوتا ہے اور انسان کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتا ہے۔یہ جو مینارہ ہے جس پر قریباً اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ آیا ہے یہ کس کام کے لئے ہے۔یاد رکھو اس کا مقصد بھی محض ایک پیشگوئی کو پورا کرنا ہے۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ روپیہ ضائع کر دیا گیا۔ان نادانوں سے پوچھو کہ تمہارا کیا گیا۔جن لوگوں کا روپیہ خرچ ہوا انہیں اگر حکم دیا جاتا کہ اس میں اپنے بدن کی ہڈیاں لگا دو تو وہ اس سے بھی دریغ نہ کرتے۔اپنے کام کی ضرورت کو ہم سمجھتے ہیں یا تم - اپنے اموال میں اسراف سے بچنا ہمارا کام ہے نہ کہ تمہارا جو ماں سے زیادہ چاہے وہ کٹنی ہوتی ہے۔پس تمہیں ہمارے اموال کی کیا فکر ہے۔جس طرح میرے ولایت جانے کے موقع پر ہماری نوے فی صدی جماعتوں نے تو مشورہ دیا کہ ضرور جانا چاہئے اور زیادہ لوگوں کو ساتھ لے جانا چاہئے۔لیکن مولوی محمد علی صاحب شور مچا رہے تھے کہ یہ ظلم ہے میں درخواست کرتا ہوں کہ