خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 507

خطبات محمود ہو سال ۶۱۹۲۸ میاں صاحب کو اس سے روکا جائے۔کوئی پوچھے بھلا تمہارا اس میں کیا حرج ہے قوم خود اپنی ضرورتوں کو بہت سمجھ سکتی ہے۔تمہیں کیوں گھبراہٹ ہو رہی ہے اور جن کا روپیہ تھا انہیں کا مشورہ تھا کہ ضرور جانا چاہئے میں تو خود جانا بھی پسند نہ کرتا تھا۔تو وہ دراصل نصیحت نہیں تھی بلکہ چڑانیوالی بات تھی۔اسی طرح اس مینارہ پر اعتراض کرتے ہیں۔اس پر جو روپیہ خرچ ہوا اس کا مقصد ایک عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنا تھا۔مجھے تو افسوس آتا ہے کہ اسے ہم اور زیادہ بلند نہ کر سکے اسے تو اتنا بلند ہونا چاہئے تھا کہ دنیا میں اس کی نظیر نہ ہوتی۔یہ سوفٹ ہے فرانس میں ایک مینارہ سات سوفٹ کا ہے اور خواہش تھی کہ یہ ہزار فٹ کا ہوتا اور کیا تعجب ہے کہ آئندہ نسلیں اس کی بنیاد کو قائم رکھتے ہوئے اسے ایک ہزار فٹ ہی بلند کر دیں۔تو یہ رسول کریم اے کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑے مزے لے لے کر کہا کرتے تھے کہ کیا ہی لطف آئے گا جب سٹیشن سے ہی روشنی دیکھ کر ہر کوئی کہہ اٹھے گا کہ وہ مینارہ ہے۔تو اس روپے کی ہستی کیا ہے ہمارے تو اگر اختیار میں تا تو ہم محمد رسول اللہ ا کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے اسے اتنا بلند بناتے کہ جالندھر اور لاہور سے یہ دکھائی دیتا۔تو پیشگوئی کو پورا کرنا بہت بڑی بات ہے اور یہ اٹھارہ ہزار روپیہ صرف پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہی صرف کیا گیا ہے۔اور مسیح موعود علیہ السلام نے اسے اتنی اہمیت دی ہے کہ اس میں صرف وہی لوگ حصہ لیں جو سو روپیہ چندہ دے سکیں اور اس پر ان کے نام لکھے جائیں تا ہمیشہ ان کی یاد گار رہے۔اور اب انجمن نے فیصلہ کر دیا ہے اور ایسے لوگوں کے نام لکھے جائیں گے۔اگر کوئی اسے اسراف سمجھتا ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ کیا اسراف کرنے والوں کے نام اس طرح ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسراف کرنے والا تو چھپاتا ہے۔مگر مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو اتنا قیمتی قرار دیا کہ فرمایا ان کے نام لکھے جائیں تا وہ ہمیشہ زندہ رہیں۔تو پیشگوئی کو پورا کرنا بہت بڑا کام ہے اس لئے اگر اور نہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قرآن کریم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہی اشداء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمُ پر عمل کرو۔اپنی طبائع میں اصلاح کرو میں کسی خاص واقعہ سے قادیان والوں کو ہی نہیں بلکہ ہر جگہ کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیں اتنی فرصت ہی نہیں کہ آپس میں لڑتے رہیں۔چھوٹا اور معمولی اختلاف بھی خطرناک ہے کیونکہ وہ بیج ہے اس لئے اسے بھی فورا طے کرانا چاہئے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں اپنے منشاء کے مطابق چلنے کی