خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 505

خطبات محمود ۵۰۵ سال ۱۹۲۸ء کبھی مجھ سے بھی قصور ہو سکتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جس سے قصور یا غلطی نہ ہوتی ہو۔اور غلطی یا قصور انسان کو سزا کا مستحق نہیں بناتا۔جو چیز سزا کی مستحق بناتی ہے وہ تو اتر قصور ہے۔یا ایسا قصور جس سے بنی نوع انسان کا ایسا نقصان ہوا ہو جس کا ازالہ ضروری ہو یا جس کے لئے شریعت نے حدود قائم کی ہوں۔یا جس سے کسی کی ذات کو نہیں بلکہ خود سلسلہ کو نقصان پہنچتا ہو۔گو ان میں بھی کسی حد تک عفو سے کام لیا جاتا ہے۔باقی ذاتی جھگڑے ایسے نہیں ہوتے کہ انہیں اتنی اہمیت دی جائے۔رسول کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا۔یا رسول اللہ کتنے قصور بھائی کے معاف کرنے چاہئیں۔آپ نے فرمایا دن میں ستر بار کہ اب ایسا کون انسان ہے جس کے اس کا بھائی دن میں ستر بار قصور کرے۔کئی دن ایسے گزر جاتے ہیں کہ کوئی ہمارا ایک بھی قصور نہیں کرتا اور شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس میں کوئی بھائی ایک یا دو تصور کرے۔مگر رسول مقبول ﷺ کا ارشاد ہے کہ دن میں ستر دفعہ معاف کرو۔اس کا یہ منشاء تو یقیناً نہیں ہے کہ کوئی بات خواہ کیسی خطرناک ہی کیوں نہ ہو اس کا کوئی نوٹس ہی نہ لو لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسے وقت دخل دو جب کوئی اور چارہ نہ رہے اور پھر بھی عفو اور نرمی سے کام لو۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے جھگڑوں کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ارد گرد کے لوگ بھی کسی نہ کسی پارٹی میں شریک ہو جاتے ہیں یہ بہت خطرناک نقص ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب مؤمن بھائی بھائی ہیں۔۵۔اس لئے کسی کو کسی پارٹی میں شامل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر ایسا و کسی جھگڑے کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔فیصلہ کے لئے غیر جانبدار رہنا نہایت ضروری ہے۔تو ایسے جھگڑوں میں بہت سا قصور ان لوگوں کو ہوتا ہے جو خواہ مخواہ حصہ لینے لگ جاتے ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ جہاں کہیں بھی جھگڑا ہو مل کر جائیں اور فورا تصفیہ کرا دیں اور یہی ذریعہ ہے جس سے جھگڑے طے ہو سکتے ہیں۔اگر پارٹیاں بنائی جائیں تو پھر تصفیہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔افسوس ہے کہ وہ صفت جو مسلمانوں کی حضرت موسی نے توریت میں بیان کی اگر وہ بھی مسلمان میں نہ پائی جائے۔اس پیشگوئی کے تو یہ معنے ہیں کہ یہ صفت نمایاں ہونی چاہئے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اَشدَاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی صفت اپنے اندر را کریں۔دشمن سے سختی اور دوستوں سے نرمی کا برتاؤ کریں تاکہ ہماری طاقت دشمنوں کے مقابلہ میں خرچ ہو آپس میں نہ ہو۔آپس میں نرمی محبت اور پیار پیدا کرو - غیرت اور سختی دشمن کے مقابلہ میں خرچ کرو۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم میں لڑنے کی جو طاقت ہے وہ اگر ساری بھی جمع