خطبات محمود (جلد 11) — Page 479
خطبات محمود ۴۷۹ سال ۱۹۲۸ء والسلام کی شان میں سخت کلمہ کہا وہ اس سے لڑ پڑے۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی شکایت کی۔آپ نے نصیحت کی اور فرمایا ایسے موقع پر صبر سے کام لینا چاہئے اگر کوئی گالی بھی دے تو خاموش رہنا چاہئے۔اس پر بجائے اس کے کہ وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے طیش میں آکر کہنے لگے مجھے تو آپ خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہیں لیکن جب آپ کے پیر ( مراد رسول اللہ ﷺ سے تھی) کے خلاف کوئی کچھ کہے تو آپ کتابیں لکھ لکھ کر شائع کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے۔گو یہ جواب غلط تھا لیکن انسانی فطرت کی بڑھی ہوئی کیفیت کا ایک نظارہ تھا۔انسانی فطرت ایسے وقت میں جوش میں آجاتی ہے اور خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض حالتوں میں جوش کا اظہار جائز ہوتا ہے۔ورنہ جب جوش کو انتہاء سے زیادہ دبایا جائے تو یا فساد پیدا ہوتا ہے یا بے غیرتی۔پس میں نے اعلان کیا ہے اور اس پر قائم ہوں کہ ایسے لوگوں کو جوابات دیے جائیں اور نہ صرف ان کو جوابات دیئے جائیں بلکہ ہمارے سلسلہ کے علماء کو چاہئے کہ اور بھی مختلف اعتراضات کے جوابات دیا کریں جو آریوں اور عیسائیوں کی طرف سے اسلام پر کئے جاتے ہیں اور اسلام کی تائید میں مضامین لکھیں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہمارے اخلاق دو سروں سے بہت بلند و بالا ہونے چاہئیں۔بے شک ہمارے مضامین پر زور ہوں اور ایسے بھی ہوں کہ دشمن محسوس کرے کہ بلاوجہ حملہ کرنے سے دوسرے کو کیا تکلیف پہنچتی ہے لیکن ناجائز اور اخلاق سے گرے ہوئے نہ ہوں بلکہ ناجائز کی حد تک بھی نہ پہنچتے ہوں۔یہ جواب کہ دشمن ہم پر ایسے حملے کرتا ہے درست نہیں۔اس نے اپنے اخلاق کا اظہار کرنا ہے اور ہم نے اپنے اخلاق کا۔وہ اگر اپنے اندرونہ کا اظہار کرتا ہے تو ہمیں اس کی نقل نہیں کرنی چاہئے۔اس کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے نفس پر جبر کر کے ہم بھی ویسا ہی گند نکالیں۔میں مانتا ہوں بعض دفعہ اسی طرز اور ای زبان میں جواب دینا بھی مفید ہوتا ہے جس زبان میں دشمن اعتراض کرتا ہے۔بعض عیسائیوں نے رسول کریم ﷺ پر جب ناپاک حملے کئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجیل سے ہی ان کے مزعومہ یسوع کی حالت کا نقشہ کھینچ کر بتایا کہ تم تو بعض مخالفین کے اقوال کی بناء پر رسول کریم ال پر اعتراض کرتے ہو لیکن تمہارے یسوع کی یہ حالت تمہاری بائیبل میں لکھی ہے۔نادانوں نے سمجھا کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام پر حملے ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔تو بعض دفعہ دشمن کی اصلاح کے لئے سختی بھی اختیار کرنی پڑتی ہے لیکن یہ مثال ان