خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 480

خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ لوگوں پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ لوگ زندہ ہیں اور وہ وفات یافتہ - حضرت مسیح علیہ السلام یا حضرت مریم پر اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ چونکہ وفات یافتہ ہیں اس لئے انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچنے کا احتمال نہیں لیکن ان لوگوں میں سے اگر کسی ناکردہ گناہ کو گھسیٹا جائے تو وہ چونکہ زندہ ہے اسے نقصان پہنچنے کا ڈر ہے۔پس یقینا غیر مبالعین ہمارے اخلاق ہماری دیانت اور ہمارے کیر کٹر پر حملہ کرتے ہیں مگر انہیں کرنے دو تم جواب ضرور دو مگر ایسا مت کرد که جس چیز کو شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اسے اختیار کرلو - شریعت نے کسی کے اخلاق پر الزام کے لئے شرائط مقرر کی ہیں اور وہ شرائط ساری دنیا کے لئے ہیں۔قرآن نے انھیں اس لئے مقرر کیا ہے که تاکسی ناکردہ گناہ انسان پر الزام نہ آئے خواہ وہ کوئی ہو کیونکہ بندے سب خدا کے ہیں۔اور خدا کو ذلیل سے ذلیل انسان کی عزت بھی پیاری ہے کیونکہ وہ بھی اس کا بندہ ہے اس لئے جواب دینے میں اس بات کی خاص احتیاط رکھنی چاہئے۔ابھی ایک شکایت مجھے پہنچی ہے۔پیغامیوں کی طرف سے ایک شخص نے ایک مضمون کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بہت نامنار نیز اس شخص نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کی بیعت بذریعہ خواب کی تھی۔کاش اسے معلوم ہوتا کہ مولوی صاحب نے اس قسم کے خوابوں کی دھجیاں کس طرح اڑائی ہیں۔مولوی صاحب کے نزدیک ماموروں کے خوابوں کے سوا اور وہ بھی ان ماموروں کے جنہیں مولوی صاحب مان لیں کسی کا خواب حجت نہیں ہوتا۔ان کے لئے اگر ایک شخص کو خواب آیا ہے تو میں اس ایک کے مقابل میں سو سے بھی زیادہ اس سے تقویٰ میں بڑھے ہوئے اور بے تعلق لوگوں کو پیش کر سکتا ہوں جنہیں میرے متعلق خواب آئے۔سو اگر یہی معیار فیصلہ قرار پا جائے تو آج ہی فیصلہ ہو سکتا ہے۔اور اگر یہ منظور نہیں تو اس ایک خواب کا کیا ٹھکانا ہے وہ تو اسی طرح پراگندہ پھرے گی جس طرح ریوڑ سے علیحدہ ہو کر ایک جانور پھرتا ہے۔خدا کے فضل سے ریوڑ میری طرف ہے اور ان کی طرف ایک پراگندہ بھیٹر کے سوا جو بھیڑئے کا شکار بنتی ہے کوئی نہیں۔اس شخص نے ایک مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔میں چونکہ پچھلے دنوں بہت ضروری کاموں میں مشغول تھا اس لئے اس کو مکمل طور پر تو نہیں پڑھ سکا تھا کہیں کہیں سے دیکھا تھا اس لئے اس کا سارا مفہوم میرے دل پر نقش نہ تھا۔اس نے اس مضمون سے بعض فقرات نقل کئے ہیں اور لکھا ہے یہ سورۃ نور کی تعلیم کے خلاف ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہی مطلب ان الفاظ کا لیا جائے جو اس نے لیا ہے اور اگر لکھنے والے کے