خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 478

خطبات محمود ۴۵۸ سال ۱۹۲۸ء لیکن اس کا کام نہیں مٹ سکتا۔اور جو لوگ نیکیوں کو پھیلانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں انھیں اپنی ذات کی پروا نہیں ہوتی۔اگر مقصور ذاتیں ہوتیں تو اسلام میں جہاد کا حکم نہ ہوتا۔خدا تعالٰی رسول کریم اے کو یہ حکم کبھی نہ دیتا کہ دشمن کا تلوار سے مقابلہ کرو بلکہ یہ کہتا کہ بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھاگ کر چڑھ جاؤ یا ان کی وادیوں میں چھپ جاؤ یا جنگلوں میں بھاگ کر اپنی جانیں بچاؤ کیونکہ تمہاری جانیں بہت قیمتی ہیں۔پھر حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضوان اللہ سیم کو یہی حکم ہو تا کہ دنیا کے غیر معروف ترین گوشوں میں چھپ جاؤ کیونکہ تمہاری جانیں بہت قیمتی ہیں۔مگر خدا کہتا ہے کہ جاؤ تم نبی ہو یا اس کے پیرو صداقت کو پھیلانے کے لئے کام کرو اور اپنی جانوں کی پروا نہ کرو۔پس یہ تو ہو سکتا ہے کہ انسان مٹ جائیں مگر جس چیز کے لئے وہ خدا کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں وہ نہیں مٹ سکتی۔میں نے ایک وقت تک کلی طور پر اپنی جماعت کو غیر مبائعین کے مقابلہ سے روکے رکھا لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ طریق بھی غلط ہے جس طرح اسلام میں نا واجب حملہ ناجائز ہے اسی طرح بے غیرتی بھی ناجائز ہے۔اس روکنے سے بعض لوگوں میں بے غیرتی پیدا ہو گئی۔غیر مبائعین کی طرف سے اگر خطرناک سے خطرناک حملہ بھی ہم پر کیا گیا تو کئی ایک نے اسے پڑھا اور ہنس کر ٹال دیا اور کسی نے اگر جواب دینے کی کوشش کی تو اسے کہہ دیا تم کیسے تنگ ظرف ہو ایسی باتوں میں کیوں پڑتے ہو یہ دراصل بے غیرتی تھی۔ان کا ایمان آہستہ آہستہ ان کے دلوں سے نکل گیا۔پس میں نے دیکھا کہ یہ طریق غلط ہے اور یہ بے غیرتی ہے جس کے نتیجہ میں بے ایمانی پیدا ہوتی ہے کیونکہ بے غیرتی اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خدا تعالی کی پیدا کی ہوئی فطرت کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کے احساسات کو صدمہ پہنچے ان کے لئے بھی جواب کا موقع رکھا جائے۔ان کے احساسات کو مارتے ہی چلے جانا نا مناسب امر ہے۔میں دوستوں کی حالت کا اندازہ اس کیفیت سے کر سکتا ہوں جو انہی حالات میں خود مجھ پر طاری ہوتی ہے۔جس طرح ان کو مجھ سے عقیدت ہے اور انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے اسی طرح میں نے بھی ان کے ساتھ بالا ہستیوں کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں ان پر اگر کوئی حملہ کرے تو میرے دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے یہ خیال نہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا یا نہیں لیکن سنا ہے ایک دوست تھے جن کی طبیعت بہت تیز تھی انھوں نے لاہور میں دوکان کی۔وہاں کسی شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ