خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 398

خطبات محمود ۳۹۸ سال ۶۱۹۲۸ چھوٹی اور درد ہوا تو اس نے کہا یہ کیا کرتے ہو۔اس نے کہادم بنا تا ہوں۔کہنے لگا کہ دم کے بغیر بھی شیر بن سکتا ہے یا نہیں۔اس نے کہا ہاں شیر تو بن سکتا ہے کہنے لگا اچھا پھر دم کو چھوڑ دو۔اسی طرح اس نے کان منہ وغیرہ کے متعلق پوچھا کہ ان کے بغیر بھی شیر ہو سکتا ہے آخر اس نے کہا اہے اگر ایک چیز نہ گودی جائے تب تو شیر ہو سکتا ہے لیکن اگر کچھ بھی نہ بنے تو شیر کیسے ہوگا۔پس یہ بات تو ہر فرقہ دوسرے کے متعلق کہہ سکتا ہے سارے مسلمان ایک فرقہ کے تو ہیں نہیں۔ان میں حنفی وہابی شیعہ ہیں۔پھر ان کے آگے کئی فرقے ہیں۔اگر ایک فریق کے متعلق کہا جائے کہ اپنے مسلمانوں کی نمائندگی کا کیا حق حاصل ہے تو اسی طرح سب کے متعلق کہا جا سکتا ہے پھر نمائندگی کرنا کس کا حق رہ جائے گا۔مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں۔مذہبی لحاظ سے تو تھے ہی اب تو سیاسی بھی بن گئے ہیں تعارفی اور عدم تعاونی وغیرہ اگر ہر ایک دوسرے کو یہی کہے گا کہ اس کا کیا حق ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی کرے تو پھر کون نمائندگی کرے گا اس کا نتیجہ بہت خطرناک ہو گا اگر اسے روکا نہ گیا کہ قلیل التعداد لوگوں کو کہا جائے تم کون ہوتے ہو۔اگر اس طرح انہیں کہا جائے گا تو وہ الگ ہو جائیں گے۔غور کرو کون ہوتے کون ہوتے سے ہی مل کر مسلمان سے کروڈ بنتے ہیں۔اگر وہ لوگ نکل جائیں گے جنہیں کون کہا جائے گا تو باقی تعداد اتنی نہ رہے گی۔اگر کوئی سمجھے کہ دس لاکھ احمدی نکل جائیں تو ہمارا کیا حرج ہے تو وہ غلطی پر ہو گا۔پھر یہی کہا جائے گا کہ ایک کروڑ شیعہ نکل جائیں گے تو کوئی بات نہیں اس صورت میں مسلمان جو تیس فیصدی حقوق لے رہے ہیں یہ بھی نہ لے سکیں گے۔تو مشترکہ مفاد میں کون کون کی تفریق اٹھا دینی چاہئے۔تھوڑے دن ہوئے میں نے سر ذو الفقار علی خاں صاحب سے مالیر کوٹلہ میں گفتگو کی۔میں نے کہا آپ مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی ترقی کے لئے متحدہ پروگرام کیوں تجویز نہیں کرتے۔اگر مسلمان ایسا کریں تو میں اپنی جماعت کے سیاسی و تمدنی معاملات ان کے سپرد کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر چہ ہم قلیل التعداد ہیں اور قلیل التعداد ہمیشہ اپنے حقوق کی حفاظت پر زیادہ زور دیا کرتے ہیں کیونکہ ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ ان سے ناروا سلوک نہ کیا جائے۔مگر میں باوجود اقلیت کے اس پر رضامند ہوں کہ اپنی جماعت کے تمدنی اور سیاسی معاملات مسلمانوں کے سپرد کر دوں مسلمانوں کی جو بڑی جماعتیں ہیں ان کو تو اشتراک کے لئے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔میں خدا تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کے دل کھول دے اور وہ سمجھ لیں کہ