خطبات محمود (جلد 11) — Page 397
خطبات محمود 492 سال ۱۹۲۸ء لیتے ایک اپنے لئے اور ایک دوسروں کے لئے۔مگر انہوں نے ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ کام کر رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں ان کے اپنے دل بھی ندامت محسوس کرتے ہوں گے اور وہ خود بھی ناجائز سمجھتے ہوں گے لیکن چونکہ وہ بھی بغض معاویہ کے مطابق مجھے سے بغض رکھتے ہیں اس لئے اختیار کئے ہوئے ہیں چونکہ انہوں نے معاہدہ کی پابندی نہیں کی اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں اب معاہدہ ہمارے درمیان نہیں۔لیکن ساتھ ہی میں اپنے اخبار نویسوں کو یہ کہہ دیتا ہوں کہ انہیں اب بھی ان کی ذاتیات کے خلاف لکھنے کی اجازت نہ ہوگی ہاں اصولی باتوں کے متعلق لکھ سکتے ہیں۔اگر کوئی اخبار نویس ذاتیات کے خلاف لکھے گا تو میں اسے اسی طرح پکڑوں گا جس طرح معاہدہ کے وقت پکڑتا۔ہماری تحریرات اخلاق فاضلہ پر مشتمل ہونی چاہئیں ہمیں اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا چاہئے اور لوگوں کو بتانا چاہئے کہ کسی کو برا کہنے سے کوئی برا نہیں بن جاتا۔اگر کسی کے برا کہنے سے کوئی برا بن جاتا تو سب سے برے (نعوذ باللہ) خدا کے نبی اور رسول ہوتے کیونکہ سب سے زیادہ گالیاں انہیں دی جاتی ہیں۔دیکھو رسول کریم ﷺ پر کس قدر خطر ناک الزامات لگائے گئے۔میں سمجھتا ہوں جس قدر مجھے گالیاں دی جاتی ہیں وہ ان کا کروڑواں حصہ بھی نہیں۔مگر کیا رسول کریم ﷺ کی شان میں کوئی فرق آگیا۔ہر گز نہیں بلکہ وہ تو بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس جب یہ خدا تعالی کی سنت ہے کہ حق کی مخالفت کی جاتی ہے اور حق پر ہونے والوں کو گالیاں دی جاتی ہیں تو میرے لئے گھبرانے کی کیا وجہ ہے۔اگر مجھے گالیاں دے کر ان کا دل خوش ہو سکتا ہے اور وہ متحدہ کاموں میں اتحاد کر سکتے ہیں تو میں سمجھوں گا کہ میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔وہ سب مل کر مجھ کو گالیاں دے لیں مگر مشترکہ اسلامی مفاد میں اکٹھے ہو جائیں تو میں سمجھ لوں گا کہ میری تمام تحریروں اور تقریروں کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا۔اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ اتحاد ہے۔مگر میں نے نہایت افسوس سے دیکھا ہے کہ بعض اخبار جو ثقہ کہلاتے ہیں وہ بھی لکھ دیتے ہیں کہ احمدیوں کا کیا حق ہے کہ فلاں کام میں حصہ لیں یہ طریق کامیابی کا نہیں۔اگر ہر فرقہ دوسرے کے متعلق کہے کہ اسے فلاں کام میں دخل دینے کا کیا حق ہے اسے علیحدہ کر دو تو اس طرح سارے نکل جائیں گے پھر باقی کون رہے گا۔مشہور ہے کسی شخص کو بہادر بننے کا شوق تھا وہ ایک گودنے والے کے پاس گیا اور کہا میرے بازو پر شیر کی تصویر بنا دو۔جب اس نے سوئی