خطبات محمود (جلد 11) — Page 363
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ جائے۔اس بات کو مد نظر رکھ کر یہ تجویز کی گئی ہے کہ اس سال کم از کم ایک ہزار آدمی ایسا تیار کیا جائے جو ان دشمنان اسلام کو جو اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں جو اب دے سکے۔اور چونکہ ارادہ ہے کہ یہ تحریک جاری رکھی جائے اور امید ہے کہ اس میں ہر سال پہلے سال کی نسبت زیادہ لوگ شامل ہوتے رہیں گے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں انسان مسلمانوں ، ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے ایسے پیدا ہو سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی زندگی کے صحیح حالات سے کما حقہ واقفیت حاصل کریں اور بجائے اس کے کہ اعتراض کرنے والوں کو ہم جواب دیں وہ خود اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو جواب دینے لگ جائیں گے۔ایک تو یہ فائدہ اس تحریک سے مد نظر ہے۔دوسرے یہ فائدہ مد نظر ہے کہ جلسہ میں اگر اوسطاً پانچ سو آدمی بھی شریک ہوں اور ہم اس سال ایک ہزار جگہوں پر جلسے کرا سکیں تو ایک دن میں کم از کم پانچ لاکھ انسان رسول کریم ﷺ کی زندگی کے صحیح حالات سے واقف ہو سکتے ہیں۔اور اگر یہ تحریک جاری رہے تو پانچ دس سال کے اندر اندر مسلمانوں میں سے تو بہت بڑی تعداد میں مگر ہندوؤں ، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں سے بھی اس قدر لوگ واقف ہو جائیں گے کہ پھر حالات کو بگاڑ کر اعتراض کرنے کی کسی کو بہت کم جرات ہو سکے گی اور اگر کوئی اعتراض کرے گا بھی تو اس کے ہم مذہب ہی اس کی تردید کر دیں گے۔اس بات کو مد نظر رکھ کر ۲۰/ جون کی تاریخ ایسے جلسوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔اس کے متعلق بعض کو یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ ۲۰/ جون کو محرم کی پہلی تاریخ ہو گی اور اس وجہ سے شیعہ اصحاب پورے طور پر اس تحریک میں حصہ نہ لے سکیں گے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ سوال سنیوں کے دل میں پیدا ہوا ہے شیعوں میں پیدا نہیں ہوا۔حالانکہ اس دن لیکچر دینے والوں میں کئی ایسے اصحاب نے اپنے نام لکھائے ہیں جو شیعہ ہیں اور کئی شیعہ اصحاب ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف لیکچر دینے کی ذمہ داری لی ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ جلسہ کو کامیاب بنانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔تو بظا ہر حالات معلوم نہیں ہوتے کہ شیعہ اصحاب کو اس تاریخ سے اختلاف ہو اور خصوصا جس فرقہ کی بنیاد محبت رسول اور محبت آل رسول پر ہو اس کے متعلق سمجھ میں نہیں آتا اسے رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار سے اس لئے پہنچے کہ اس دن محرم شروع ہو گا۔شیعہ اصحاب محرم میں جس بات سے صدمہ محسوس