خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 364

خطبات محمود Fur سال ۱۹۲۸م کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ لوگ ان دنوں میں خوشیاں منائیں۔مگر یہ جلسے نہ تو رسول کریم کی پیدائش پر خوشی منانے کے لئے ہوں گے نہ اور کسی قسم کی خوشی کے اظہار کے لئے بلکہ یہ تو جلسے ہوں گے اور ان میں رسول کریم ﷺ کی حقیقی شان دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔آپ کی زندگی کے صحیح حالات سنائے جائیں گے اور ان دنوں میں شیعہ اصحاب کی طرف سے بھی یہ کوشش کی جاتی ہے کہ حضرت امام حسین اور دوسرے شہیدان کربلا کے حالات سے لوگوں کو واقف کریں۔گویا ان ایام میں وہ بھی اہل بیت کے تاریخی حالات کو تازہ کرتے اور لوگوں کو سناتے ہیں۔پھر جن کے ذریعہ اہل بیت کو ساری عزت اور توقیر حاصل ہوئی ان کا ذکر ہو تو اس پر شیعوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔لیکن ایک اور مشکل ضرور ہے اور وہ یہ کہ چونکہ محرم کے ایام میں بعض جگہ فساد ہو جاتا ہے اس لئے محرم کی ان تاریخوں میں گورنمنٹ کی طرف سے بعض جگہ جلسے وغیرہ کرنے کی ممانعت ہو جاتی ہے۔اس دقت کو دیکھتے ہوئے کہیں مناسب سمجھا گیا ہے کہ جس جلسہ کی تجویز ہے وہ محرم سے پہلے کر لیا جائے اور اس کے لئے 12 جون کا دن مقرر کیا جاتا ہے جب کہ اتوار ہو گا اور چھٹی ہونے کی وجہ سے اس دن کسی کے لئے جلسہ میں شامل ہونے میں رکاوٹ نہ ہو گی۔اور اگر محرم میں جلسہ ہونے کی وجہ سے کسی کے جذبات کو صدمہ پہنچ سکتا تھا تو اب اسے بھی صدمہ نہیں پہنچے گا اور وہ شامل ہو سکے گا۔چونکہ اس جلسہ کی غرض یہ ہے کہ سارے مسلمان مل کر ان لوگوں کو جو رسول کریم کی ذات پر بے ہودہ اعتراض کرتے ہیں یہ بتا دیں کہ ہم ایسے اعتراضوں سے بدظن نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کے والا و شیدا ہیں اس لئے تمام مسلمانوں کو ان جلسوں میں پوری کوشش سے شریک ہونا چاہئے اور انہیں کامیاب بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرنا چاہئے۔پس آج ایک اعلان تو میں یہ کرتا ہوں کہ مجوزہ جلسے ۲۰/ جون کو نہیں بلکہ ۱۷ / جون کو ہوں گے۔اس بات کی اطلاع سب دوستوں کو دے دی جائے اور ہر جگہ یہ اعلان کر دیا جائے۔میں نے دفتر ڈاک میں بھی کہہ دیا ہے کہ ہر خط جو لکھا جائے اس میں یہ بھی لکھ دیا جائے کہ جلسہ ۲۰ جون کی بجائے ۱۷ جون کو ہو گا اور دوست بھی جہاں جہاں خط لکھیں یہ اطلاع دے دیں۔دو سرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ ایسے جلسہ کے لئے کیوں نہیں رسول کریم ﷺ کی پیدائش کا دن کیا گیا جب کہ اس دن پہلے سے مجالس میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔میں اس سوال کا جواب