خطبات محمود (جلد 11) — Page 362
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء صفات انہی وجودوں میں ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس وقت تک جو انسان پیدا ہوئے یا آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب کے سب رسول کریم ﷺ سے نیچے ہیں اور آپ سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔ایسے انسان کی زندگی پر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو اس کی زندگی کے حالات کو بگاڑ کر ہی کر سکتا ہے اور بگاڑے ہوئے حالات سے وہی متاثر ہو سکتا ہے جسے صحیح حالات کا علم نہ ہو۔مثلاً ہمیں معلوم ہو کہ زید یہاں بیٹھا ہے اب اگر بکر قسمیں کھا کھا کر کہے کہ وہ لاہور چلا گیا ہے تو ہم اس کی بات ہر گز نہ مانیں گے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ زید لاہور نہیں گیا بلکہ اس مجلس میں بیٹھا ہے۔تو بگاڑے ہوئے حالات سے دھوکا دہی کھا سکتا ہے جسے صحیح علم نہ ہو رسول کریم کی ذات پر اسی طرح حملے کئے جاتے ہیں۔ایسے حملوں کے دفاع کا بہترین طریق یہ نہیں ہے کہ ان کا جواب دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو توجہ دلائیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کے حالات خود پڑھیں اور ان سے صحیح طور پر واقفیت حاصل کریں۔جب وہ آپ کے حالات پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ آپ کی ذات نور ہی نور ہے۔اور اس ذات پر اعتراض کرنے والا خود اندھا ہے۔دیکھو اگر کوئی اس وقت جب کہ سورج چڑھا ہوا ہے یہ کہے کہ مجھے سورج نظر نہیں آتا۔تو اسے یہ نہ کہیں گے کہ ممکن ہے سورج نہ چڑھا ہوا ہو اور ہمیں سورج کے چڑھنے میں شک نہیں پیدا ہو جائے گا بلکہ یہ کہیں گے کہ تو اندھا ہے اس لئے تمہیں سورج نظر نہیں آتا۔اگر کوئی یہاں بیٹھے ہوئے یہ کہے کہ مجھے تو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے تو کوئی آنکھوں والا اس شبہ میں نہیں پڑ جائے گا کہ سورج نہیں چڑھا ہوا۔بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ اس کی آنکھوں کو یک لخت ایسا صدمہ پہنچا ہے کہ وہ اندھا ہو گیا ہے۔اسی طرح جو شخص رسول کریم کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھے آپ کی زندگی کے حالات تاریک ہی تاریک نظر آتے ہیں تو اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اس کی آنکھیں نہیں رہیں۔جسمانی آنکھیں نہیں بلکہ روحانی آنکھیں۔یہ نہیں کہ اس کے کہنے پر آنکھوں والوں کو بھی شبہ پڑ جائے ؟ کہ ممکن ہے رسول کریم ﷺ کی ذات میں وہ نقص پائے جاتے ہوں جو آپ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔پس جس طرح اس وقت جب کہ صاف دن چڑھا ہوا ہے کوئی بادل وغیرہ نہیں اگر کوئی کہے کہ سورج نہیں چڑھا ہوا تو اسے کہا جائے گا آؤ دیکھو سورج چڑھا ہوا ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کی ذات والا صفات پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ لوگوں کو آپ کے حالات پڑھنے اور ان سے صحیح طور پر واقف ہونے کی طرف مائل کیا