خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 321

خطبات محمود ۳۲۱ سال ۱۹۲۸ء کے آگے اپنے آپ کو ڈال دینے سے جب محمد رسول اللہ خاتم النبین بن گئے تو تم بھی کوشش کرد- اگر محمد رسول اللہ نہ بن سکو گے تو کم از کم اس کے خادم تو بن جاؤ گے۔پس یہ مہینہ ہمارے لئے نشان ہے۔یہ بندوں کو موقع دیتا ہے کہ خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ ہوں اور جو کام ہمیشہ نہیں کر سکتے کم از کم اس مہینہ میں کرلیں۔ان حالات پر نظر ڈالتے ہوئے اور یہ کہ بندوں کے لحاظ سے تعلق رکھتے ہوئے یہ مہینہ بابرکت ہے ورنہ خدا تعالٰی کے لئے سب وقت یکساں ہیں۔چونکہ بغیر وقت کی تعیین کے انسان ست ہو جاتا ہے اور یہ کہتے کہتے کہ پھر کرلیں گے وقت گزار دیتا ہے اس لئے خدا تعالٰی نے اس مہینہ کو چنا نا کہ ست سے ست اور غافل سے غافل لوگوں کو بھی ہو شیار کرے۔چونکہ یہ مہینہ جاہل اور گم گشتہ راہ ہدایت مخلوق کو خدا کی طرف کھینچ لاتا ہے اس لئے بابرکت ہے۔پس ان برکات سے جو اس مہینہ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس حکمت کے ماتحت جو میں نے بیان کی ہے ہمیں اس سے بہتر سے بہتر فائدہ اٹھانا چاہئے۔جو طبائع پہلے خدا تعالی کی طرف متوجہ نہ تھیں ان کو اس طرح متوجہ ہونا چاہئے کہ یہ رمضان کا مہینہ چلا جائے مگر ان کے لئے نہ جائے۔رمضان کی یہی خوبی ہے کہ انسان اس ماہ میں خدا کے لئے رات کو اٹھتا ہے اور دعائیں کرتا ہے۔لیکن جو شخص ہمیشہ رات کو اٹھے اور خدا تعالٰی کے حکم کے ماتحت اپنی طاقت اور قوت کے ماتحت عبادت کرے اس کے لئے رمضان کے گذر جانے کے بعد بھی رمضان ہی ہے۔پس یہ ناممکن نہیں ہے کہ اس رمضان کی وجہ سے ایسی توفیق مل جائے کہ باقی گیارہ مہینے بھی رمضان ہی رہے۔ہمارے دوستوں کو اس ماہ کی برکات سے فیض یاب ہونے کے لئے خصوصیت سے کوشش کرنی چاہئے اور خصوصیت سے دعا ئیں کرنی چاہئیں۔خدا تعالٰی تو ہر وقت سنتا ہے مگر انسان کی ہمت بندھانے کے لئے خدا تعالیٰ اسے خاص موقع دیتا ہے۔میں نے دیکھا ہے معمولی کھیلوں اور کاموں میں بھی اگر یہ طریق نہ رکھا جائے تو وہ نہ ہو سکیں۔مثلاً ایم۔اے کا امتحان شاید ہی کوئی پاس کرتا اگر صرف یہی آخری امتحان رکھا جاتا۔پس امتحانات کے درجے اس لئے رکھے گئے ہیں تاکہ انسان کو جرات پیدا ہو اور وہ سمجھے اب میں نے یہ امتحان پاس کر لیا ہے اب یہ اور اس طرح ترقی کرتا جائے۔اسی طرح چھوٹے بچہ کا استاد دیکھتا ہے کہ ست ہو رہا ہے تو کہتا ہے بس ایک دفعہ سبق دہرالو تو یاد ہو جائے گا۔اسی طرح رسہ کھینچنے کے وقت جب لڑکے ست ہونے