خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 320

خطبات محمود ۳۲۰ سال ۶۱۹۲۸ جب مانگوں تو دے گا پکاروں تو بولے گا۔پس وہ لگاؤ اور وہ جلن جو عشق پیدا کرتا ہے یا جو عشق سے پیدا ہوتی ہے وہ فلسفیانہ جذبات اور خیالات سے نہیں پیدا ہوتی۔اس لئے خدا تعالٰی نے اپنے فضلوں کے ایک دروازے کو آہ وزاری اور عجز و انکساری کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ پر دور نہیں آتے نہ اس کو مہینوں یا دنوں سے کوئی تعلق ہے کیونکہ یہ تو سورج سے پیدا ہوتے ہیں جو ایک ادنیٰ چیز ہے اور وہ سورج کا خالق ہے اس کی پیدائش سے جو مہینے پیدا ہوں ان سے خدا کو کیا تعلق ہو سکتا ہے۔جس طرح پانی کنویں سے نکلتا ہے اور ایک زمیندار کھیت کو سیراب کرنے کے لئے ہاتھ میں کھرہا جسے رمبا کہتے ہیں لئے اس کو صحیح طور پر چلاتا ہے۔اب کنویں کو رہبے سے کیا تعلق ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کنواں رہبے کا محتاج ہے۔تو خدا تعالی کا دنوں یا مہینوں یا سالوں سے کوئی تعلق نہیں۔اور اس کے افضال کسی دن یا مہینہ سے وابستہ نہیں۔مگر وہ انسان جس سے خدا تعالیٰ سلوک کرنا چاہتا ہے وہ مہینوں سے وابستہ ہے۔خدا تعالی تو رات دن جاگتا اور ہمیشہ بیدار رہتا ہے لیکن بندہ تو سوتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ خدا کے لئے دن اور رات کی ساری گھڑیاں ایک ہی جیسی ہیں مگر انسان کے لئے نہیں اس لئے فرمایا کہ بندہ کی دعائیں سننے کے لئے میں رات کی آخری گھڑیوں میں نیچے اترتا ہوں۔یعنی اس وقت دعا ئیں خاص طور پر قبول کرتا ہوں۔یہ گھڑیاں گھری اور میٹھی نیند کی گھڑیاں ہوتی ہیں جو انسان خدا تعالیٰ کے لئے انہیں قربان کرتا ہے۔اس کی دعا خدا تعالی سنتا ہے اس لئے نہیں کہ خدا کو رات کی آخری گھڑیوں سے تعلق ہے بلکہ اس لئے کہ بندہ کو ان گھڑیوں سے تعلق ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے لئے سب مہینے برابر ہیں مگر بندے پر سستی اور کسل کی حالت آتی ہے اس لئے اس کی خاطر ایک مہینہ مخصوص کر دیا۔اس لئے کہ بندہ ۱۲ مہینے خدا تعالی کی طرف ایک سا متوجہ نہیں ہو سکتا۔پس خدا تعالیٰ نے اس مہینہ کو اس لئے نہیں چنا کہ اسے رمضان کا مہینہ پیارا ہے بلکہ اس لئے چنا ہے کہ بندہ ایک مہینے کو مخصوص کئے بغیر خاص طور پر خدا کی طرف متوجہ نہ ہو سکتا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے رمضان کو اس لئے نہیں چنا کہ یہ مہینہ بابرکت تھا۔بلکہ خدا نے انسانوں کو کمال تک پہچانے کے لئے اسے بابرکت بنایا۔قرآن کو بھی رمضان کے ساتھ خاص تعلق ہے مگر اس لئے نہیں کہ مہینہ مبارک تھا بلکہ جب رسول کریم ﷺ کی روحانیت اس کمال تک پہنچ گئی کہ قرآن شریف نازل ہو تو وہ رمضان کا مہینہ تھا اس لئے اسے خدا تعالیٰ نے مبارک بنا دیا تاکہ بندوں کو یاد دلائے کہ اس مہینہ میں عجز و انکسار اور خدا تعالیٰ