خطبات محمود (جلد 11) — Page 322
خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۲۸ء لگتے ہیں تو کہا جاتا ہے ذرا زور لگا لو تو جیت جاؤ گے اس سے ان کے دل مضبوط ہو جاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ جب انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کا مقصود اسے ملنے والا ہے تو وہ اپنی انتہائی قوت اور طاقت خرچ کر دیتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے انسان کی ہمت کی کمزوری کو دیکھ کر کھا لو آج میں تمہاری دعائیں سننے کے لئے تیار ہو گیا ہوں تاکہ جو اپنی کم ہمتی کی وجہ سے اپنی دعا ئیں اسے سنانے نہیں جاتے وہ بھی جائیں۔تو یہ بندوں کے لحاظ سے باتیں ہیں۔چونکہ جس ہستی نے انسان پیدا کیا وہی جانتی ہے کہ انسان کسی طرح ہدایت پاسکتا ہے اس لئے اس نے یہ طریق رکھا ہے ورنہ خدا تعالی کامل ہے ہمیشہ سے کامل ہے اور ہمیشہ کامل رہے گا۔وہ بابرکت ہے ہمیشہ سے بابرکت ہے اور ہمیشہ بابرکت رہے گا مگر کوئی وجہ سمی ، ہماری کمزوری ، ہماری ستی ، ہماری کو تاہی ہی سمی بہر حال جب ہماری کمزرویوں نے اس کی برکات حاصل کرنے کا خاص موقع بہم پہنچایا ہے تو ہم کیوں اس سے فائدہ نہ اٹھا ئیں۔پس ان ایام میں خصوصیت سے دعا ئیں کرو پھر صرف اپنے نفس کو ہی مد نظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسلام اور سلسلہ کی ترقی، اسلام اور سلسلہ کی کامیابی کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ہم اس وقت ایک جنگ میں ہیں اور جنگ کے موقع پر شخصی ضرورتوں کو قومی ضرورتوں پر قربان کر دیا جاتا ہے جس طرح جنگ کے موقع پر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی کا اکلوتا بیٹا ہے یا دس پانچ بلکہ قوم کی خاطر قربانی کا سوال ہوتا ہے۔اسی طرح آج اسلام کی عظمت کا سوال ہے اور خصوصیت سے اسلام کی خدمت کی ضرورت ہے۔پھر ایک طریق دعا کرنے کا یہ بھی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے دعا کرتے وقت اپنے بھائیوں کو یاد رکھا کرو۔یہ منع ہے کہ کوئی شخص اپنے لئے دعا نہ مانگے اور صرف دو سروں کے لئے مانگے۔اپنے لئے بھی مانگنی چاہئے مگر جب دوسروں کے لئے مانگتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعا مانگتے ہیں۔جو شخص یہ کہے کہ میں دوسروں کے لئے ہی دعا مانگتا ہوں وہ غلطی کرتا ہے اور اس میں کبر پایا جاتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو خدا کا محتاج نہیں سمجھتا۔تو اپنے لئے بھی دعا ئیں مانگو اور دوسروں کے لئے بھی اس سے اصلاح نفس اور قربانی کا مادہ بھی پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ جب ہم خدا تعالٰی سے کہتے ہیں کہ ہمارے فلاں بھائی کو یہ دے وہ دے تو کیا جب موقع ہوگا ہم خود حتی الامکان اس کی مدد نہ کریں گے ؟ ضرور کریں گے۔ورنہ ہماری دعا جھوٹی ہو گی۔اس طرح دعا کرنے سے قومی نظام مضبوط ہوتا ہے۔