خطبات محمود (جلد 11) — Page 248
خطبات محمود ۲۴۸ سال 1927ء لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ اگر ان کا مذہب سچا ہے تو وہ غالب ہو جائے گا اسی طرح حنفی کہلانے والوں کو اگر یقین ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے تو ان کو بھی یہ یقین رکھنا چاہئے کہ اگر اتحاد ہوا تو سب حنفی ہو جائیں گے۔اس لئے لوگوں کے دلوں سے بغض اور کینہ نکالنا سچائی کے لئے مفید ہی ہے مضر نہیں ہو سکتا۔ہاں جو لوگ اپنے عقائد کو جھوٹا سمجھتے ہیں ان کو اپنے مذہب کے نابود ہو جانے کی فکر ہونی چاہئے۔مگر میں انہیں نصیحت کروں گا کہ انہیں سچائی نظر آئے تو اسے قبول کر لیں۔اور جان بوجھ کر غلط عقائد پر نہ اڑے رہیں۔پس میں ایک طرف تو جماعت کے دوستوں اور سلسلہ کے اخباروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ لوگوں کو جلسہ پر آنے کی تحریک کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آئیں۔اور اپنے عمل سے خدا کے فضل کے وارث نہیں۔تاخد اتعالی دکھا دے کہ دشمنی اور کینہ رکھنے والے لوگ سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے دوسری بات ساتھ ہی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جتنے زیادہ آدمی جلسہ پر آئیں گے اتنا ہی خرچ زیادہ ہو گا۔اس لئے قادیان کے لوگوں کو بھی اور باہر کے لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ جو لوگ جلسہ پر آئیں ان کے اخراجات کا انتظام کریں۔خدا تعالی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے کہ یأْتِكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ تذکره صلحیم کہ دور دور سے تیرے پاس تخالف آئیں گے۔اور دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔آنے والوں کو خدا تعالٰی نے پیچھے رکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ اس لئے رکھا ہے کہ مہمان کے لئے سامان پہلے مہیا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے۔کہ خدا تعالیٰ انہیں يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقِ کا مصداق بنائے اور وہ سامان مہیا کرنے والے ہوں اور پھر یا تُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کا نظارہ دیکھیں۔جن لوگوں کا دل وسیع ہوتا ہے خدا تعالٰی ان کو وسعت عطا کرتا ہے۔ورنہ یوں تو جن کے پاس لاکھوں روپیہ ہو ان کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر تنگی محسوس ہوتی ہے۔ان کا مال جتنا بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی وہ جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے وقت ایک شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی دعا کریں خدا تعالی مجھے اتنا مال دے کہ میں زکوۃ دیا کروں۔پھر اللہ تعالی نے اسے مال دیا۔اور کئی لوگوں سے مال میں بڑھ گیا لیکن جب لوگ اس کے پاس زکوۃ لینے کے لئے گئے تو کہنے لگا ہماری تو اپنی ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں زکوۃ کہاں سے دیں۔رسول کریم ﷺ نے اس سے زکوۃ لینے سے روک دیا۔پھر بعد میں جب وہ زکوۃ دیتا تو خلفاء لینے سے انکار کر دیتے کہ رسول کریم ﷺ نے تم سے زکوٰۃ لینے سے منع کر دیا ہوا ہے۔