خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 247

خطبات محمود ۲۴۷ سال 1927ء دے تو مان لیں۔ورنہ کم از کم کئی غلط باتوں کی تردید اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ ابھی سے اس تحریک کو شروع کردیں۔جو لوگ آئیں گے وہ دنیوی معاملات میں بھی مشورے کر سکتے ہیں۔ہماری جماعت کے حالات بھی دیکھ سکتے ہیں۔ہمارے کام کو بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔اور جو لوگ مذہبی دلچسپی رکھتے ہیں۔اور ہمارے نزدیک سب سے زیادہ قابل قدر یہی چیز ہے۔وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اعمال اور عقائد کیا ہیں ؟ ہمارے خلاف یہاں تک کہا جاتا ہے کہ احمدی نمازیں نہیں پڑھتے۔اگر کوئی پڑھتا ہے تو دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے۔پھر کہا جاتا ہے احمدیوں کا قرآن کوئی اور ہے۔جو لوگ یہاں آئیں گے وہ دیکھ سکیں گے کہ یہ سب باتیں غلط ہیں۔اور جب ان کی بد خنیاں دور ہو جائیں گی تو ان میں تعاون کا مادہ پیدا ہو گا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ ابھی سے یہ تحریک شروع کر دیں۔اخباروں کو بھی چاہئے کہ یہ تحریک کرتے رہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ جہاں خدا تعالٰی نے اس سال خصوصیت سے بہت لوگوں کے دلوں سے بدظنی کو دور کیا ہے وہاں جن کے دلوں میں حسد ہے وہ اپنی عداوت اور دشمنی میں اور زیادہ بڑھ گئے ہیں۔اور وہ ایسی تدابیر کر رہے ہیں کہ جن سے لوگوں کو قادیان آنے سے روکیں۔اور ان کے دلوں میں ہمارے متعلق دشمنی پیدا کر دیں۔چنانچہ کل اور پرسوں سے متواتر اس قسم کے خطوط آرہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا وہ حصہ جو نام میں تو ہمارے ساتھ شریک ہے۔لیکن دشمنی میں بعض اوقات آریوں اور عیسائیوں سے بھی بڑھ جاتا ہے اس فتنہ کو جو پچھلے دنوں اٹھا اندر ہی اندر پھیلا رہا ہے ان لوگوں کی غرض یہ ہے کہ منافرت پیدا کر کے ان لوگوں کو جنہیں اسلام کی خدمت کا کوئی احساس ہے ہم سے نفرت دلا دیں۔یہ بھی دراصل شیطان کا ایک حملہ ہے۔اس کو دیکھتے ہوئے اور بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو جلسہ پر آنے کی تحریک کی جائے۔شیطان اپنا سارا زور لگا رہا ہے۔چاہے وہ مسلمان کہلانے والوں کی صورت میں لگائے۔چاہے غیر مسلم کہلانے والوں کی شکل میں۔چاہے رعایا کی شکل میں۔چاہے حکومت کی شکل میں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس دھوکا میں آسکتے ہیں اور اس طرح روحانی زندگی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔اور ایسی لہر چلا دیں جس کا آخری نتیجہ اتحاد ہو۔جب لوگوں کے دلوں سے بغض اور عداوت دور ہو جائے گی تو پھر صداقت پھیل جائے گی۔ہمیں یقین ہے کہ احمدیت سچائی اور صداقت ہے۔دوسرے لوگ جو اپنے اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ان کو تسلی رکھنی چاہئے کہ جو سچائی ہوگی۔وہی غالب رہے گی۔اہل حدیث فرقہ کے