خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 249

خطبات محمود ۲۴۹ سال 1927ء مال جمع کرنا منع نہیں لیکن جو خدا کے لئے جمع کرتا ہے وہ اس کے راستہ میں خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔بلکہ وہ خرچ کر کے خوشی اور بشاشت پاتا ہے۔لیکن جو اپنے نفس کے لئے جمع کرتا ہے اس کے لئے خدا کی راہ میں کچھ دینا بہت دو بھر ہوتا ہے کھیتوں یا جنگلوں میں دیکھو ایک زمیندار یا گڈریا مرلی لئے گا رہا ہوتا ہے۔اور اتنا خوش اور بشاش نظر آتا ہے کہ گویا کسی ملک کا مالک ہے۔مگر حالت یہ ہوتی ہے کہ سوائے ان کپڑوں کے جو اس کے بدن پر ہوتے ہیں اس کے گھر میں کچھ نہیں ہوتا۔اور اسے یہ بھی پتہ نہیں ہو تا کہ رات کو کیا کھاؤں گا۔مگر اس کا دل خوش ہوتا ہے۔تو اطمینان اور خوشی دل کی حالت پر منحصر ہے۔اگر ایمان حاصل ہو تو پھر خدا کے لئے مالی قربانی سے کوئی دریغ نہیں کیا کرتا۔لیکن اگر خدا کے لئے خرچ کرنے پر کسی کے دل میں ہچکچاہٹ پیدا ہوتی ہے تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں خصوصاً عورتیں جو کسی چھوٹے چندہ کی تحریک پر اپنا سب کچھ دے دیتی ہیں اور جب بڑے چندہ کا سوال آئے تو پھر کچھ نہیں دے سکتیں۔جس قسم کا چندہ ہو اس کے مطابق اپنی حالت کے لحاظ سے حصہ لینا چاہئے مثلاً ہیں ہزار کے لئے اگر تحریک ہو تو اور نسبت سے پچاس ہزار کے لئے ہو تو اور نسبت سے اور اگر میں لاکھ کے لئے ہو تو اور نسبت سے دینا چاہئے۔یعنی ہر تحریک کے مطابق اس میں حصہ لینا چاہئے۔اگر پچاس آدمی ایسے مل جائیں اور میں جانتا ہوں کہ وقت آنے پر ایسے آدمی ضرور تیار ہو جائیں گے۔جو پچاس پچاس ہزار کی جائدادیں دین کے لئے وقف کر دیں اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور موقع آیا کوئی اور سامان نہ ہوئے تو میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو ایسی تحریک پر خوشی سے آگے بڑھیں گے۔اس وقت میں جلسہ سالانہ کے لئے تحریک کر رہا ہوں۔جو یہ کہ اول تو احمدیوں کو خود آنے اور دو سروں کو لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوسرے جلد سے جلد جلسہ کے اخراجات مہیا کرنے ضروری ہیں۔جو زیادہ سے زیادہ ۱۰ / دسمبر تک مہیا ہو جانے چاہئیں۔قادیان کے لوگوں کو خصوصیت سے اس میں حصہ لینا چاہئے۔کیونکہ وہ دوہرے میزبان ہیں ایک احمد می ہونے کے لحاظ سے دو سرے قادیان میں رہنے کے لحاظ سے۔کیا عجب ہے کہ اگر وہ اس نیکی کے کام میں حصہ لیں۔تو خداتعالی بعض کے دلوں کو جو زنگ لگا ہوا ہے اسے دور کر دے۔اور جو نفاق کا رنگ چڑھا ہوا ہے (الفضل ۲۵/ نومبر۱۹۲۷ء) اسے اڑارے۔ال عمران : ۱ : له تذکرہ صفحه ۳۵۶ - ایڈیشن چهارم