خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 246

خطبات محمود ۲۴۶ سال 1927ء حالات میں دیکھنا یہ چاہئے کہ مختلف لوگوں میں سے کون سے لوگ ہمارے لئے مفید ہیں۔اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ ہندوؤں کو اپنے فوائد مد نظر نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے فوائد کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور انگریزوں کو محض اپنے فوائد مد نظر ہیں تو میں گورنمنٹ سے عدم تعاون کرنے والوں کی رائے درست مان لوں گا۔مگر بات یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے اپنے فوائد مد نظر ہیں۔ایسی صورت میں دیکھنا یہ چاہئے کہ کون سی قوم انصاف کے زیادہ قریب ہے اور کس سے ایسا سمجھوتا ہو سکتا ہے جس میں مسلمانوں کے فوائد زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں۔میرے تجربہ کے لحاظ سے انگریزوں سے ہی ایسا سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔پس جب اسلامی فوائد اور مسلمانوں کے حقوق کا سوال ہو تو ہم گورنمنٹ سے سختی کے ساتھ مطالبہ کرتے ہیں مگر باوجود اس کے گورنمنٹ سے تعاون کرنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کا اسی میں فائدہ ہے۔غرض مسلمانوں میں یہ اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کون سا طریق اسلام کے فائدہ کے لئے اختیار کیا جائے مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان کہلانے والوں کی کوئی جماعت اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی۔یہ تو میں مان سکتا ہوں کہ اس کے اختیار کردہ طریق سے نقصان پہنچ جائے۔اور میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ عدم تعاون سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا۔مگر میں یہ نہیں مان سکتا کہ عدم تعاونیوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کے حقوق تباہ کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا تھا۔غرض یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مسلمانوں کے دلوں میں احساس پیدا کر دیا ہے کہ جماعت احمد یہ اسلام کی دشمن نہیں بلکہ خادم ہے۔اس احساس کی وجہ سے وہ لوگ جو پہلے ملنا تک نہیں چاہتے تھے۔جو بات کرنا پسند نہ کرتے تھے ان کا تعصب اور ضد دور ہو رہی ہے۔انہوں نے ملنا جلنا شروع کر دیا ہے۔بلکہ بعض تو اپنے معاملات میں احمدیوں سے مشورہ لینا ضروری سمجھ رہے ہیں۔اس تغیر کو مد نظر رکھتے ہوئے جلسہ پر آنے کی تحریک کی جائے۔اور جو لوگ آنے کے لئے تیار ہوں انہیں پوری ہمدردی سے لانا چاہئے۔اس موقع پر سیاسی امور کے متعلق بھی مشورے ہو سکتے ہیں اور بتایا جا سکتا ہے کہ ہندوؤں سے کس طرح سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔اور کیونکر مسلمانوں کے مفاد محفوظ رہ سکتے ہیں۔اور مذہبی طور پر بھی ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ تحقیقات کرے۔ہمیں یقین کامل ہے کہ احمدیت کچی ہے۔مگر باوجود اس کے ہر مذہب کی کتابیں میں پڑھتا ہوں۔دوسرے مذاہب کے لوگوں سے تبادلہ خیالات کرتا ہوں اور مجھے خوشی ہوتی ہے جب کسی مذہب کا کوئی ماہر مل جائے۔اس قسم کی واقفیت علم کو وسیع کرتی ہے۔پس مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تحقیقات ضرور کریں۔اگر اللہ تعالیٰ ان کا سینہ کھول