خطبات محمود (جلد 11) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال 1927ء طرح دوسرے مذاہب کے لوگ جو سلوک مسلمانوں سے کرتے ہیں وہی احمدیوں سے بھی کرتے ہیں۔بلکہ دوسروں سے وہ نرمی سے پیش آتے ہیں۔مگر ہم سے بہت سختی کرتے ہیں کیونکہ قلیل التعداد سمجھتے ہیں۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ ہم مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی کوئی بات کریں۔اس کے معنے تو یہ ہوئے کہ ہم اپنے آپ کو آپ نقصان پہنچا ئیں اور اپنے آپ کو کمزور کریں۔پس مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بات ہمارے فرائض میں داخل ہے کہ مسلمانوں کی بہتری کو سب سے مقدم رکھیں اور سب سے زیادہ توجہ انہی کی طرف کریں۔کیونکہ وہی سب سے زیادہ ہمارے قریب ہیں۔اور اگر سیاسی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم مسلمانوں کے ساتھ ایسے متحد ہیں کہ ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔جو ان کا حال ہو گا وہی ہمارا ہو گا۔بلکہ جو تکلیف انہیں پہنچے ہمیں ان سے بڑھ کر پہنچتی ہے۔پس سیاسی ضروریات بھی ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے حقوق اور مفاد کے متعلق زیادہ کوشش اور سعی کریں تاکہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچے۔ہاں کسی امر کے متعلق رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ہم مسلمانوں کی ترقی کا ذریعہ کوئی اور سمجھیں اور وہ کوئی اور مثلاً ہم مسلمانوں کی ترقی گورنمنٹ سے تعاون کرنے میں سمجھتے ہیں۔اور وہ عدم تعاون کے قائل ہوں۔جو عدم تعاون کے قائل ہیں انہیں ہم کہیں گے کہ غلطی کر رہے ہیں مگر وہ اپنے خیال میں یہ طریق اسلام کے فائدہ اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اختیار کر رہے ہوں گے۔اسی طرح اگر کوئی ہمارے متعلق یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے گورنمنٹ سے تعاون کرتے ہیں تو یہ اس کی بے وقوفی ہے۔ہمارا مذہبی عقیدہ ہے کہ کسی حکومت سے بہترین طریق فائدہ اٹھانے کا یہ ہے کہ اس سے تعاون کیا جائے یا پھر اس کا ملک چھوڑ دیا جائے۔اور سیاسی عقیدہ بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کو گورنمنٹ کے ساتھ تعاون سے ہی فائدہ ہو گا۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ گورنمنٹ ہماری خیر خواہ نہیں۔ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔لیکن جب گورنمنٹ غیر مسلم ہے مسلمان نہیں تو وہ مسلمانوں کے فوائد کا اس طرح خیال کیونکم رکھ سکتی ہے جس طرح مسلمانوں کو اپنے فوائد کے متعلق ہو سکتا ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے کون زیادہ مفید ہے ہندو یا گورنمنٹ۔وہ لوگ جو گورنمنٹ سے عدم تعاون کرتے اور ہندوؤں اور سکھوں سے تعاون کرتے ہیں ان کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ ہندوؤں کو کون سے ہمارے فوائد مد نظر ہیں۔انہیں بھی اپنے ہی فوائد کا خیال ہے۔اسی طرح سکھوں کو کون سے ہمارے فوائد کا خیال ہے۔وہ بھی اپنے فوائد ہی چاہتے ہیں۔ان