خطبات محمود (جلد 11) — Page 244
خطبات محمود ۲۴۴ سال 1927ء مسلمانوں کے فوائد کی طرف اسے کوئی توجہ نہیں۔یہ عام مسلمانوں کی دشمن اور بد خواہ ہے۔اللہ تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ تعلیم یافتہ لوگوں اور بہت سے عوام کے دلوں سے یہ خیال دور ہو رہا ہے۔اور بہت سے لوگ سمجھ گئے ہیں کہ ہمیں جماعت احمدیہ کے متعلق دھوکا دیا جا رہا تھا اور فریب سے اس جماعت سے علیحدہ رکھا جارہا تھا۔ورنہ اسلام کی خدمت کرنے اور مسلمانوں کی خیر خواہی کرنے میں جیسی یہ جماعت سرگرمی دکھاتی ہے اور کوئی نہیں دکھاتی۔مذہبی اختلاف اور عقائد میں فرق علیحدہ بات ہے۔لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ ہماری جماعت دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور جس طرح یہ جماعت دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی طرح جو لوگ اس کے سب سے زیادہ قریب اور نزدیک ہوں گے ان کو وہ زیادہ فائدہ پہنچائے گی۔ورنہ اگر ایسی جماعت قریبی لوگوں کی خیر خواہ نہ ہو بلکہ ان کی دشمن ہو تو وہ اپنے عمل سے اپنے اس دعوئی کو باطل قرار دے گی جو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔اللہ تعالی کی طرف سے جو جماعتیں کھڑی کی جاتی ہیں وہ أخْرِجَتْ لِلنَّاس یعنی لوگوں کی ترقی اور فائدہ کے لئے پیدا کی جاتی ہیں۔اور فائدہ سب سے پہلے قریب والوں کو پہنچتا ہے۔پس وہ لوگ جو رسول کریم اس کی صداقت پر ایمان لائے۔قرآن کریم کے خدا کی طرف سے نازل ہونے پر ایمان لائے خدا تعالٰی کی ان صفات پر جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں ایمان رکھنے میں ہمارے ساتھ شریک ہیں یا ان کے بیشتر حصہ پر ایمان لانے میں شریک ہیں۔جو جزا و سزا جنت و دوزخ پر ایمان لاتے ہیں جو لوگ اتنے مسائل میں ہمارے ساتھ متفق ہیں اگر ہمارا دعوئی یہ ہے کہ ہماری جماعت ایک مامور کی کھڑی کی ہوئی جماعت ہے۔تو دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری جماعت دنیا کی ترقی اور بہتری کے لئے کھڑی کی گئی ہے۔اس دعوئی کے بعد ہم پر سب سے پہلا حق ان لوگوں کا ہے جن کا مذہبی مسائل میں ہم سے سب سے زیادہ اتحاد ہے۔پس اگر یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کے دکھ کو ہم اپنا دکھ نہیں سمجھتے بلکہ خوشی ہوتی ہے۔ان کی تکلیف میں ہم شریک نہیں ہوتے تو یقینا ہم اپنے دعوئی میں جھوٹے ہیں۔مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ باوجود نہ ہی مسائل میں شدید اختلاف رکھنے کے ہم مسلمانوں کے دشمن ہوں۔یہ تو مذہبی پہلو ہوا۔باقی رہا سیاسی پہلو اس کے لحاظ سے بھی ہم ان کے دشمن نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔اس لئے جو قانون مسلمانوں کے خلاف پاس ہو گا اس میں ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اس کا اثر ہم پر بھی پڑے گا۔پھر کس طرح ہم کوئی ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو مسلمانوں کے لئے مضر ہو۔کیونکہ جو بات ان کے لئے مضر ہو گی وہ ہمارے لئے بھی یقیناً مضر ہے۔اسی