خطبات محمود (جلد 11) — Page 202
خطبات محمود ۲۰۲ سال 1927ء ہے اور مذہب کی ترقی کے لئے ایمان اور یقین کی ترقی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ایک ایسی قوت ہے جو ہر چیز کو بدل سکتی ہے۔یاد رکھو کہ ایمان در اصل اکسیر اعظم ہے۔یہ حقیقی اکسیر کا نام ہے۔لوگ خیالی اکسیر کی تلاش میں رہتے ہیں جو قلب ماہیت کر دیتی ہے اور وہ ہر مرض کے لئے مفید ہے۔لیکن میں تمہیں یقینی اکسیر کا پتہ دیتا ہوں۔اور اسی کی طرف بلاتا ہوں۔یہ اکسیر اکسیر ایمان ہے۔اکسیر ایمان وہ قوت اور تاثیر ہے کہ ایک کشمیری کو جو اپنے ماحول اور دوسرے اسباب کے ماتحت دلیری اور جرات کا محتاج ہو گیا ہے دلیر بنادے گی۔اور ایک افغان کی خشونت کو رحم اور ہمدردی سے بدل دے گی۔یہ ایمانی اکسیر ان تمام کمزوریوں کو دور کر دیتی ہے جو کسی قوم میں پیدا ہو کر اس کی ذلت اور موت کا موجب ہو جاتی ہیں۔بلکہ اس میں ایسا اثر ہے کہ وہ قوموں کو زندہ کر دیتی ہے۔یہ یقین کہ ہم ایک ایسی بالا ہستی کو ملنے والے ہیں جو اپنی قوتوں میں بے نظیر اور تمام خوبیوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔اور وہ ہماری تمام حاجتوں کو پورا کرنے والی ہے تو اس ایمان سے محبت اور اس محبت میں خلوص اور پھر خلوص سے کچی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔اور انسان کے اندر یہ جوش کام کرنے لگتا ہے کہ میں اس کی صفات کے موافق اپنا کیر کٹر بنالوں۔جب ایمان اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور عملی قوتیں نشو و نما پانے لگتی ہیں۔تو ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ اسی ایک نسخہ سے سب کمزوریاں دور ہو جاتی ہیں۔بجل سخاوت سے بزدلی جرات سے سختی نرمی سے ظلم عدل و انصاف سے بے رحمی ہمدردی اور باہمی اعانت سے تبدیل ہو جاتی ہے۔اور تمام رزائل دور ہو کر اخلاق فاضلہ پیدا ہو جاتے ہیں۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمام اقوام ایک ہی وقت میں ترقی کر سکتی ہیں۔پس مسلمانوں کی ترقی کے لئے جو اصول ضروری ہے وہ ان کی مذہبی ترقی ہے۔جس قدر ان میں ایمان اور یقین کی قوت ترقی کرے گی۔اسی قدر وہ ترقی کی طرف جائیں گے۔اور اس ایک اکسیر سے روئے زمین کے مسلمانوں کی خواہ وہ کسی قوم کے ہوں ترقی ہوگی۔یہ نسخہ سب کے لئے ہے۔وہ کشمیری ہوں یا افغان۔ترک ہوں یا عرب۔مصری ہوں یا چینی۔ہندی ہوں یا کوئی اور۔ایمان ہی ایک اکسیر ہے جو ہر تبدیلی کر سکتی ہے۔ایمان ہی وہ قوت عطاء کرتا ہے جس کی نظیر نہیں۔مسلمانوں میں اس وقت ایک قسم کی بیداری ہے اور وہ قومی ترقی کے لئے فکر مند ہیں۔قومی ترقی ہو بھی رہی ہے۔مگر مذہبی حیثیت سے وہ گر رہے ہیں۔ترک ترقی کر رہے ہیں لیکن مذہبی حیثیت سے ہر قدم پیچھے جارہا ہے اور وہ مصریوں اور ہندوستانیوں سے جدا کرتا جاتا ہے۔اسی طرح پر مصری اور ایرانی اپنے اپنے حلقہ میں ترقی کر رہے ہیں۔لیکن اسلامی حیثیت سے وہ ایک دو سرے سے دور