خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 201

خطبات محمود سال 1927ء بھی خوبی پیدا ہو کر ترقی کا موجب ہو سکتی ہیں۔اسی طرح اس کے ماحول کو دیکھ کر ہم ان اسباب پر نظر کر سکتے ہیں جو اس کی ترقی کے مئوید ہو سکتے ہیں۔مثلاً کشمیری اور افغان دو تو میں ہیں۔ان کے عادات ان کی ضروریات اور قومی خصائص جدا جدا ہیں۔جس اصول پر کشمیری ترقی کر سکتے ہیں۔پٹھان اس اصول پر ترقی نہیں کر سکتے۔اس لئے کہ دونوں قوموں کے ماحول نے ان پر جداجدا اثر ڈالا ہے۔پٹھانوں کی ترقی کا سوال جب آئے گا۔تو ان کی تربیت و اصلاح کے لئے ضروری ہو گا کہ ان کی خشونت اور جلد بازی میں کمی کریں۔اور جب کشمیریوں کی ترقی کا سوال ہو تو ضروری ہو گا کہ ان میں جرات۔خودداری۔بہادری اور صداقت کے بیان کرنے میں دلیری کی قوت پیدا ہو۔اگر دونوں قوموں کا علاج ایک ہی طریق پر کریں تو دونوں ہی تباہ ہو جائیں گی۔افغانوں کے لئے الگ نسخہ کی ضرورت ہے اور کشمیریوں کے لئے جد ا علاج درکار ہے۔پس جب تک یہ اصول مد نظر نہ رکھا جائے گا ہم ترقی نہیں کر سکتے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے اسلام مذہب ہے کوئی قوم نہیں۔بلکہ وہ مختلف اقوام کو اپنے حلقہ میں رکھتا ہے۔اسلام مشتمل ہے کشمیریوں پر افغانوں پر عربوں مصریوں، ترکوں، چینیوں پر اور مختلف ممالک کے باشندے اس میں داخل ہیں۔اب ہر قوم اور ملک کے مسلمانوں کے حالات ان کی ضرورتیں ان کے عادات و ماحول جُدا جُدا ہیں اس لئے یہ حیثیت قوم کے ہر قوم کی ترقی کے جدا اسباب ہونگے پس جب کہ کوئی دو قومیں بھی ایسی نہیں ہو سکتیں جو ایک مقرر قانون کے ماتحت ترقی کر سکیں تو ہزاروں کیونکر ترقی کر سکتی ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ مذہبی ترقی مذہب کے اصول پر ہو۔قومی ترقی ممکن ہے کہ مذہب کے بغیر بھی ہو سکے ایک بنگالی۔مدراسی ، سندھی ، ترک ، عرب اپنے حالات اور عادات روایات اور ماحول میں ترقی کر سکتا ہے۔مگر سب کی سب قومیں ایک ہی اصول پر ترقی کرنا چاہیں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ وہ مذہبی اصول پر ترقی کریں۔جب وہ مذہبی اصول کو پابندی کے ساتھ مضبوط پکڑلیں تو وہ سب کی سب ترقی کر سکیں گی۔اس لئے کہ مذہب نے ان کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیا ہے۔قومی اصول پر ایک قوم ترقی کر سکتی ہے۔یہ ہیئت مجموعی تمام مسلمان نہیں۔یہ جدا امر ہے کہ بعض امور ان میں ترقی کے لئے مشترک بھی ہوں۔چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسلمان ترقی کریں۔اس لئے اس کے لئے ہم کو اس اصول پر کار بند ہونا چاہئے جو مذہبی ترقی کا ہے۔مذہبی ترقی کے لئے ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے جس کو دنیا کے مخصوص حالات اپنے اندر احاطہ نہیں کر سکتے اور وہ یقین اور ایمان ہوتا ہے۔اقوام کی ترقی کے لئے ان اقوام کی مخصوص شکایات اور کمزوریوں کو دور کرنا ہوتا