خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 203

خطبات محمود ۲۰۳ سال 1927ء ہو رہے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک اسلام کی ترقی نہ ہو اور یقین اور ایمان نہ بڑھے ترقی کا قدم دور لے جا رہا ہے۔پس قومی ترقی کی تدابیر جدا ہیں اور مذہبی ترقی کی جدا - اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے ایمان اور یہ کہ ہمارے اعمال کی بنیاد اسلام پر ہو۔اگر اس راہ کو ہم نے اختیار نہ کیا تو مسلمانوں کی ترقی نہ ہوگی۔یہ ممکن ہے ایرانیوں۔ترکوں۔یا مصریوں کی ترقی ہو۔مگر وہ اسلام کی ترقی نہ ہوگی جب تک مذہب کی ترقی نہ ہو۔اور وہ مذہب اسلام کی عملی روح ہے۔عیسائیوں کی قومی ترقی نے مذہبی ترقی کو روک دیا ہے۔جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ مڈل ایجز (middle agen) میں گو ان کی دنیوی ترقی ایسی نہ تھی جو آج نظر آتی ہے اگر وہ ایک لائن پر چل رہے تھے۔اس میں شک نہیں کہ وہ عیسائیت کے روحانی تنزل کا زمانہ بھی تھا۔لیکن اسلام کی ابتدائی ترقی نے روحانی اور دنیوی ترقی کا فائدہ پہنچایا۔اس سے ظاہر اور ثابت ہے کہ اسلام ایک ایسی قوت ہے جو ایک ہی وقت ہر قسم کی ترقیاں عطا کرتا ہے۔پس مسلمانوں کی ترقی کار از اسلام کی ترقی میں ہے۔وہ خالص اسلام جس کو رسول اللہ الی لائے۔اور وہ اسلام جس کو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔وہ اسلام جو ان تمام روایات کے خارج کرنے کے بعد رہتا ہے جو یہود و نصاری اسلام میں آتے وقت اپنے ساتھ لے آئے تھے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسی جماعت میں داخل ہیں جس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ وہ نہ صرف اسلام کو اصل حالت میں لائیں گے اور ترقی دیں گے بلکہ اسے بڑھائیں گے۔وہ لوگوں کو توجہ دلائیں اور مسلمانوں کے ذہن نشین کرائیں کہ ان کی ترقی ایسی حالت میں ہوگی کہ اسلامی ترقی کی روح پیدا ہو۔مذہب کے جھوٹے نام سے کامیابی نہیں ہوگی۔اور اگر کوئی شخص قومی اور مذہبی ترقی کو ملائے گا۔تو اس سے نقصان ہو گا۔یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ مسلمانوں کی ترقی کا ایک اور ایک ہی طریق ہے کہ اس کی بنیاد اسلام پر ہو۔پس اس بات کو مد نظر رکھ کر تبلیغ کریں گے تو باتوں میں اثر ، کلام میں روحانیت اور قلب میں صفائی پیدا ہوگی۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم قومی ترقی کو اختیار کرتے ہوئے مذہب کی ترقی میں روک نہ ہوں۔بلکہ ہماری قومی ترقی کی بنیاد اسلام کی ترقی پر ہو۔آمین۔الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۲۷ء)