خطبات محمود (جلد 11) — Page 196
ت محمود 197 سال 1927ء ہو چوہڑے اور سانسی گرے ہوئے ہیں۔اگر مسلمان آنکھیں کھول کر دیکھیں تو اب بھی انہیں معلوم د سکتا ہے کہ وہ کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔آج سے ایک سو سال پہلے وہ ہندوستان کے بادشاہ تھے۔اور بادشاہوں کے پاس مال و دولت محکوم کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔مگر آج ہر جگہ مسلمان ہندوؤں کے دست نگر ہیں جس کی وجہ سوائے چھوت چھات کے اور کچھ نہیں۔پس اگر سو سال کے اندر اندر بادشاہ قوم کی یہ حالت ہو سکتی ہے کہ وہ قریباً غلاموں کی طرح زندگی بسر کر رہی ہے۔تو سو سال کے بعد اس کی حالت چوہڑوں اور چماروں سے بھی بد تر ہو جائے گی۔چوہڑوں نے تو ہندوؤں کی کچھ باتیں اختیار کرلی ہیں اس لئے ہندو ان پر رحم کرتے ہیں مگر مسلمانوں پر قطعا رحم نہ کریں گے۔پس ہماری صلح کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ ہمارے حقوق جو گورنمنٹ نے دئے یا آئندہ دے وہ ہماری آبادی اور اہمیت کے لحاظ سے دئے جائیں۔اور ہندو ان میں روک نہ بنیں۔اگر مسلمانوں کو وہ حقوق نہ ملے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمان روز بروز گرتے جائیں گے۔صلح کے یہ معنی نہیں کہ مسلمان ذلت اور نکبت کے گڑھے میں گر جائیں اور اپنے حقوق چھوڑ دیں۔بلکہ یہ ہیں کہ مسلمان بھی زندہ رہیں اور معزز طور پر زندہ رہیں۔پس ہماری یہ تین شرطیں ہوں گی جن پر ہم صلح کر سکتے ہیں (۱) ہر قوم پر ذمہ داری ہوگی کہ اگر کوئی شخص پہلی شرط کی خلاف ورزی کرے گا تو قوم اس کا بائیکاٹ کرے گی۔اور جو نہ کریں گے ان کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔اگر یہ نہ کیا جائے۔تو اس قوم کے لیڈر ذمہ دار ہوں گے۔کہ وہ ایک مقررہ رقم بطور تاوان کے دیں۔کوئی کہے نبیوں اور بزرگوں کی ہتک کا ازالہ تاوان سے کس طرح ہو سکتا ہے خواہ کوئی لاکھ روپیہ دیدے۔یہ صحیح ہے مگر ہم ایسے روپیہ سے رسول کریم اے کی زندگی کے صحیح حالات شائع کریں گے۔اور اس طرح ان اعتراضات کا ازالہ کریں گے۔دوسری شرط یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں سے چھوت چھات چھوڑ دیں یا اسے صلح میں نہ سمجھیں۔تیسری شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق آبادی کے لحاظ سے حاصل ہوں اور ہندو ان میں روک نہ بنیں بلکہ مدد گار ہوں۔اگر یہ تین شرطیں ہندوؤں کو منظور ہوں تو ہم سب سے پہلے صلح کے لئے تیار ہیں۔مگر صلح وہی کریں گے جس کے نتیجے میں قوم ذلیل نہ ہو۔مسلمان چوہڑے چمار نہ بنیں۔ہم نے فیصلہ کیا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم جو ہندوستان میں پیدا ہوئے یا باہر سے یہاں آئے اسلام کے جھنڈے کو کھڑا کریں۔اور اس کے