خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال 1927ء راضی نہیں ہو سکتے۔ہو سکتا ہے کہ ہندو ہمیں علیحدہ طور پر کہہ دیں کہ ہم تم سے چھوت چھات نہیں کریں گے۔مگر ہم اس پر راضی نہ ہوں گے۔اور نہ اس پر راضی ہوں گے کہ کوئی ہندو کسی مسلمان کے ساتھ بیٹھ کر کھا پی لے۔بلکہ ہند و علی الاعلان مسلمانوں کے ساتھ کھائیں اور آئندہ کے لئے اقرار کریں کہ مسلمانوں سے چھوت چھات نہیں کریں گے۔لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر اس مسئلہ کو صلح کی شرائط میں ہی نہ رکھیں۔جس طرح ہندو ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں۔اور ہم کوئی اعتراض نہیں کرتے۔اسی طرح ہمارے چھوت چھات کرنے پر وہ کوئی اعتراض نہ کریں۔صلح کی تیسری شرط ایک اور ہے۔چونکہ ہماری قوم چھوت چھات کی وجہ سے گرتی جارہی ہے اور ذلت برداشت کر رہی ہے۔اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ اس ذلت کو دور کرنے کے لئے کوئی طریق اختیار کریں۔یہ جو چوڑھے چمار یا اور اچھوت اقوام کے لوگ نظر آتے ہیں۔گاؤں کے پاس علیحدہ جھونپڑیوں میں رہتے اور خود بھی اپنے آپ کو ادنی اور ذلیل سمجھتے ہیں۔ایک وقت تھا ہندوستان کی بادشاہت ان کے قبضہ میں تھی۔یہاں کے حکمران تھے۔مال دولت ان کی ملکیت تھی۔لیکن جب آریہ ہندوستان میں آئے اور یہاں کے لوگوں کو شکست دے کر ان پر غالب آگئے۔تو ان سے چھوت چھات شروع کر دی۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چند ہزار سال کے بعد ان لوگوں کی حالت ایسی ذلیل ہو گئی جو نظر آرہی ہے۔یہ لوگ کیوں شہروں سے باہر پنڈوروں میں رہتے ہیں۔اس لئے کہ چھوت چھات انہیں باہر رہنے پر مجبور کرتی ہے اگر مسلمانوں کے متعلق بھی ہندوؤں کا یہ رویہ اسی طرح جاری رہا تو ایک دن مسلمان بھی اس حالت پر پہنچ جائیں گے جو چوڑھے چماروں کی ہے۔اب چوڑہوں سے کہہ کر دیکھ لو کہ آؤ ہماری مجلس میں بیٹھو تو وہ کہیں گے نہیں جی ہم دور ہی اچھے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال کے سلوک سے ان کے نفس بالکل مرگئے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے۔ایک دوست نے سنایا۔جب شود رانند صاحب یہاں آئے اور انہوں نے تقریر کی۔تو چونکہ چوہڑوں کے متعلق تھی اس لئے ایک چوڑھے کے آنے پر اس کو کہا گیا۔آگے آکر بیٹھو۔مگر جوں جوں اسے آگے آنے کے لئے کہا جائے وہ اور پیچھے ہٹتا جائے۔اس وقت جب کہ دوسری قومیں اپنے حقوق کا پر زور مطالبہ کر رہی ہیں۔چوہڑے چماروں کو اگر اپنے پاس بیٹھنے کے لئے بھی کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم دور ہی اچھے ہیں یہ ہزاروں سال کے بائیکاٹ اور چھوت چھات کی وجہ سے ہے کہ یہ لوگ عزت نفس سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔اگر آج اس بات کا فیصلہ نہ کیا گیا تو مسلمانوں کو بھی اسی ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرنا پڑیگا جس میں