خطبات محمود (جلد 11) — Page 8
خطبات محمود سال 1927ء روپیہ پھر آنہ فی روپیہ اور اب ڈیڑھ آنہ فی روپیہ تک چندہ پہنچا ہے۔یہ تدریجی ترقی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ جب سب کچھ قربان کرنے کا وقت آجائے اس وقت سب کچھ ہی قربان کیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ جس قربانی کا بیرونی جماعتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کیا اس میں قادیان والے بھی شریک ہیں اگر اس میں مرکز کی جماعت شریک ہے تو پھر یہ شبہ غلط ہے۔بلکہ اس سے بڑھ کر یہی نظر آتا ہے کہ قادیان کی جماعت کا کثیر حصہ بیرونی جماعتوں سے قربانیوں میں بہت بڑھا ہوا ہے۔یہاں کی جماعت میں چند لوگ ایسے بھی ہیں جو کمزور ہیں۔مگر چند لوگوں کی کمزوری سے جماعت پر تو الزام نہیں آسکتا اکثر و فعہ بلحاظ جماعت کے یہاں کے دوست باہر کے دوستوں سے چندوں میں بڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور زیادہ قربانی کرتے ہیں لیکن اگر یہ مراد ہے کہ قادیان کے لوگ سب کچھ کیوں نہیں دے دیتے تو یہ شبہ بھی تب صحیح ہو سکتا تھا کہ ہم نے ان سے سب کچھ قربان کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔تو انہوں نے وہ مطالبہ پورا نہیں کیا۔اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ ننگے پاؤں پھریں اور بالکل بھوکے پیاسے رہیں تو اس کا تو ہم نے ابھی تک نہ باہر کی جماعتوں سے نہ یہاں کی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے۔جب یہ مطالبہ نہیں کیا گیا۔تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قربانی نہیں کرتے۔مطالبہ تو ابھی یہاں تک ہی کیا جاتا ہے کہ تم اپنے دلوں میں قربانیوں کے لئے تیار رہو۔اگر کوئی ایسا وقت آجائے کہ سب کچھ قربان کرنے کی ضرورت پڑے تو ہر ایک چیز قربان کر دیں گے۔صحابہ نے بھی تو آخر ایک ہی دن میں سب کچھ قربان نہیں کر دیا تھا۔ہاں ان معنوں میں سب کچھ قربان کر دیا تھا کہ وہ اپنے دلوں میں پوری قربانی کے لئے تیار رہتے تھے۔اور تیاری کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس وقت وہ کر بھی دیں۔بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہر وقت دل میں تیار رہیں کہ جس وقت بھی اللہ تعالی کی طرف سے آواز آئے فورا اس آواز پر لبیک کہہ سکیں۔باقی میں نہیں جانتا کہ خدا کی طرف سے کسی قسم کی قربانی کے لئے آواز آئے۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ بغیر عظیم الشان قربانیوں کے ہم عظیم الشان ترقی پر نہیں پہنچ سکتے۔اور ان قربانیوں کے لئے لبیک کہنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔دیکھو قربانی کے لئے کس قدر اعلیٰ مقام پر انسان کو پہنچنا پڑتا ہے۔کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر جیسا جرنیل اپنے بھائیوں کو ہی کہتا ہے کہ مجھے اپنے ہاتھ سے قربان کر دو۔وہ دوست اور عزیز جو ہر وقت ارد گردان پر اپنی جانیں لڑا دینے کے لئے جمع رہتے تھے۔ان سے وہ درخواست کرتے ہیں کہ مجھے اسلام کی خاطر قربان کر دو۔جب تک یہ جذبہ نہ ہو۔تب تک ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔پس دنیا پر حقیقت اور سچائی قائم کرنے کے لئے ہر چیز کو قربان کر دو۔