خطبات محمود (جلد 11) — Page 7
خطبات محمود 4 سال 1927ء بیماریاں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ بیماریاں ہیں جو فورا انسان کو ہلاک کر دیتی ہیں اور ایک وہ بیماریاں ہیں جو مزمنہ ہوتی ہیں جیسے تپ دق اور سل وغیرہ۔ان امراض سے انسان کڑھ کڑھ کر مرتا ہے۔اسی طرح ابتلاء بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک فوری کام کرنے والی امراض کی طرح اور ایک مزمنہ امراض کی طرح ہوتے ہیں۔کبھی تو اللہ تعالی تلوار کے ذریعے امتحان لیتا ہے۔ادھر تلوار گردن پر پڑی اور ادھر وہ مارا گیا۔اور کبھی وہ مزمنہ امتحان لیتا ہے۔جو لمبی موت کا امتحان ہوتا ہے۔اس میں وہ چاہتا ہے کہ ہر روز تم پر موت وارد ہو۔یہ امتحان اللہ تعالی نے ہمارے لئے رکھا ہے اور یہی موت حضرت مسیح موعود کو قبول کرنی پڑی۔اسی واسطے آپ فرماتے ہیں۔صد حسین است در گریبانم یعنی حسین تو ایک دفعہ تلوار کے نیچے آکر قتل ہوئے مگر میں ہر وقت خدا کے دین کے لئے قربان ہو تا ہوں۔یہی قربانی اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے مقرر کی ہے۔اسلام کے مصائب و مشکلات یونہی نہیں دور ہو جائیں گے۔وہ ایک قربانی چاہتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں کی قربانی چاہتے ہیں۔جب تک تمام افراد اس قربانی کے لئے تیار نہ ہوں گے اس وقت تک کبھی ہماری جماعت کو کسی قسم کی ترقی اور کامیابی نہیں مل سکتی۔اسلام کی زندگی ہماری موت کو چاہتی ہے اور جو شخص اپنی زندگی چاہتا ہے وہ دوسرے لفظوں میں اسلام کی موت چاہتا ہے۔اسلام آرام چاہتا ہے۔لیکن جو شخص اپنے لئے آرام چاہتا ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اسلام کے لئے رکھ اور مصیبت چاہتا ہے۔کیسا بد قسمت وہ شخص ہو گا جو اپنی زندگی اور آرام کو اسلام کی زندگی اور آرام پر مقدم کرے۔بے شک نبی قوم کو زندہ کرنے آتے ہیں۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ زندگی صرف یہی زندگی نہیں بلکہ ایک اور زندگی دینے کے لئے آتے ہیں جو موت قبول کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔نبی دنیا میں روحانی زندگی دینے کے لئے آتا ہے اور اس کے آنے سے روحانی سلطنت ملتی۔اس موقع پر میں ایک شبہ کا بھی ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو پچھلے دنوں یہ شخص کی طرف سے مجھے پہنچا۔وہ یہ ہے کہ قادیان میں قربانی کرنے کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن خود قادیان کے لوگ قربانی نہیں کرتے۔اگر تو اس سے یہ مطلب ہے کہ نسبتی قربانی نہیں کی جاتی تو یہ بالکل جھوٹ ہے۔قربانیوں میں بھی تدریجی ترقی ہوتی ہے۔اور اس تدریجی ترقی کے ماتحت ہی ہماری جماعت سے روز مرہ زیادہ سے زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔مثلاً پہلے دھیلانی روپیہ چندہ تھا۔پھر پیسہ فی