خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 71

71 السموات والارض جو میری قدر کرتا ہے۔تو لوگ کیوں نہ میری قدر کریں۔دیکھو بچہ جب پیدا ہوتا ہے۔تو سب سے پہلے انانیت کا یعنی اپنے وجود کا خیال اس میں پیدا ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے میں بھی کوئی وجود ہوں اور مجھے بھی اپنے وجود کے قائم رکھنے کے لئے کچھ چاہئے۔یہ بات وہ الفاظ میں نہیں کہہ سکتا بلکہ طبعی طور پر یہ حس اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔وہ دنیا میں آکر آنکھ ہی کھولتا ہے اور پیدا ہو کر پہلا ہی سانس لیتا ہے کہ اس میں یہ انانیت پیدا ہو جاتی ہے پھر اسے سب اٹھائے پھرتے ہیں۔اسے پیار کرتے ہیں۔چومتے ہیں۔اس کے آرام کو مد نظر رکھتے ہیں۔غرض ہر طرح اس کی قدر کرتے ہیں اور جونہی اس میں احساس بڑھتا ہے۔وہ ان حالات کو محسوس کر کے سمجھتا ہے کہ میں مرجع عالم ہوں۔وہ لوگوں کو پیار کرتے دیکھتا ہے تو چاہتا ہے کہ ہر ایک مجھے پیار کرے۔وہ دیکھتا ہے کہ لوگ اسے اٹھائے پھرتے ہیں تو اسے یہ عادت پڑ جاتی ہے کہ لوگ اٹھائے پھریں اور یہ سب کچھ اس انانیت سے ہی پیدا ہوتا ہے۔جو پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس میں پیدا ہوتی ہے۔غرض انسان کی پیدائش سے پہلے بھی رحمانیت ہوتی ہے اور جب وہ مرجاتا ہے۔تو اس کے بعد بھی۔پس جو خصلت خدا کی سب سے پہلے انسان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔وہ رحمانیت ہی ہے۔ایک انسان کے پیدا ہونے سے پیشتر اس نے کئی قسم کی چیزیں اپنی صفت رحمانیت سے پیدا کیں مثلا" رحم مادر دیا۔غذا ئیں دیں۔پھر ماں کے پیٹ میں ہی اسے ناک۔کان۔آنکھ۔ہاتھ پاؤں تمام اعضاء دیئے اور اور بھی ذریعے بہم پہنچائے۔جن سے وہ وہاں زندہ رہ سکے۔پھر پیدا ہونے سے پہلے دودھ پیدا کیا۔غرض ایسی تمام چیزیں دے کر رحمانیت کی صفت کو بلا واسطہ ظاہر کیا۔اور اب جب وہ پیدا ہو گیا تو اسی اپنی رحمانیت کی صفت کو بالواسطہ ظاہر کرنا شروع کیا۔اور انسانوں کو اس کا ذریعہ بنا دیا۔ان حالات کے ماتحت سب سے پہلے انانیت ہی انسان میں پیدا ہوتی ہے۔اور انانیت ہی کا سب سے پہلا درجہ بھی ہے۔جب ایک بچہ اس سے اور آگے قدم اٹھاتا ہے۔تو دوسری صفت رحیمیت کی اسے ملتی ہے۔اس کے ماتحت اسے کام کرنا پڑتا ہے۔اس صفت کے ماتحت اب بچہ کو برے کاموں سے بچنے اور اچھے کاموں کے کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے۔گویا اسے ایک طرح نیک و بد کی تمیز ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں پر بھی صفت رحیمیت کا غلبہ ہو تا چلا جاتا ہے۔جن پر اس بچے کے لئے رحمانیت کا تسلط تھا۔جونہی وہ ہاتھ پاؤں ہلانے لگتا ہے۔تو طریق سلوک بھی بدل