خطبات محمود (جلد 10) — Page 70
70 ہے یا تمدنی طور پر کوئی غلبہ ان پر دیا گیا ہے۔یا ان کو ہم سے کوئی آئندہ فائدہ کی امید ہو سکتی ہے۔یا کوئی ذاتی کمال ہم میں ہے۔آخر کیا سبب ہے کہ لوگ قدر کریں۔دنیا میں ہزاروں انسان ایک دوسرے کے سامنے سے گذر جاتے ہیں اور ان میں سے سارے ہی سب کا ادب و احترام نہیں کرتے لیکن وہ کوئی گلہ بھی نہیں کرتے کہ کیوں ہمارا ادب و احترام نہیں کیا گیا۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ادب و احترام کے لئے کچھ تعلق ہونا چاہئے۔لیکن وہ لوگ جن کو ادب و احترام کرانے کی عادت ہو۔خواہ مخواہ لوگوں سے لڑتے ہیں کہ ہمارا ادب کیوں نہیں کرتے۔ایک دفعہ ایک سیدانی فقیرنی ہمارے گھر میں آئی۔میں اس وقت چھوٹا تھا۔وہ آکر چارپائی پر بیٹھ گئی اور کہنے لگی۔میں آل رسول ہوں۔مجھے کچھ دو۔حضرت صاحب نے بھی کچھ دیا اور گھر کے لوگوں نے بھی دیا۔پھر اس نے پانی مانگا مگر جب ایک عورت نے اسے پانی دیا تو سخت ناراض ہو کر کہنے لگی۔امتیوں کے گلاس میں مجھے پانی دیتی ہے۔ہم سادات آل رسول ہیں۔اول تو پانی پلانے کے لئے نیا گلاس چاہئے تھا اور اگر پرانے ہی میں پانی دینا تھا تو پہلے اسے اچھی طرح مانجھنا تھا۔اب وہ فقیرنی ہو کر آئی تھی۔مگر باوجود اس کے اس میں وہ عادت موجود تھی جو ناواجب ادب و احترام کراتے رہنے سے پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں جو آنحضرت ﷺ کی اولاد سے ہو اسے اگر واقعی مدد کی ضرورت ہے تو ہمارا فرض ہے کہ اس کی مدد اور خدمت کریں مگر بعض لوگ یوں ہی سادات کے اس ادب و احترام کو دیکھ کر جو لوگ ان کا کرتے ہیں۔سید بن جاتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ ان کا بھی ادب و احترام کیا جائے۔سادات کو جو فخر حاصل ہے۔وہ طفیلی طور پر ہے۔اور آنحضرت ﷺ کے سبب سے ہے۔مگر باوجود اس کے ایک مدت تک ادب و احترام کئے جانے کا اثر ان میں اس حد تک ہوتا ہے کہ حالات بدلنے اور خود کوئی خوبی نہ رکھنے کے بعد بھی ان میں یہ خواہش رہتی ہے۔کہ لوگ ان کا ادب کریں۔چنانچہ وہ فقیر نی جو سیدانی تھی۔اس طفیلی فخر کی بناء پر اور اس لطف و کرم کی وجہ سے جو سادات پر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں بھی کیا کہ لوگوں کو ان کے ادب و احترام کی طرف مائل کر دیا سمجھتی تھی کہ میں حق رکھتی ہوں کہ میرا ادب و احترام کیا جائے اور اسی عادت کی بنا پر اس نے یہ کہا کہ آل رسول کو ہمیشہ نئے گلاس میں پانی پلانا چاہئے۔یا اگر امتیوں کے گلاس میں پلانا ہو تو اسے اچھی طرح مانجھ لینا چاہئے۔تو انسان کے اندر سب سے پہلے جو خصلت پیدا ہوتی ہے۔وہ انانیت کی ہے۔وہ ان حالات کو دیکھتا ہے جو اس کے ادب و احترام کے لئے پیدا ہوتے ہیں تو سمجھتا ہے کہ ربّ