خطبات محمود (جلد 10) — Page 72
72 جاتا ہے۔پہلے اگر اسے گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔تو اب چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں آپ چلے۔پہلے اگر کسی ہلکی سی مشقت کا بھی اس کی ذات سے مطالبہ نہ کیا جاتا تھا۔تو اب کسی در تک اس کا تقاضا ہونے لگتا ہے۔غرض اب وہی سلوک اس سے نہیں ہوتا۔جو اس سے پہلے ہو تا تھا۔کیونکہ رحیمیت کے ماتحت اب لوگ چاہتے ہیں۔بلکہ ماں باپ بھی چاہتے ہیں کہ پہلی حالت میں اور اس حالت میں فرق ہونا چاہئے۔اور اس زندگی میں اور اس زندگی میں امتیاز پیدا کرنا چاہئے۔اس وقت اگر یہ کچھ نہیں کہتا تھا۔تو اب اسے کہنا چاہیئے۔اسے اپنی حاجات بتانی چاہئیں۔وہ منتظر ہوتے ہیں کہ بچہ خود کہے بھوک لگی ہے۔تو رحمانیت کے بعد دوسرا درجہ رحیمیت کا ہوتا ہے۔اور رحیمیت کے ماتحت فردیت بدلے ملتے ہیں۔اس کے بعد ایک اور خصلت انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے وہ مالک یوم الدین کی صفت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس صفت کے ماتحت بتایا ہے کہ اس مقام پر بحیثیت مجموعی جزا ملتی ہے۔اس وقت فرد سے نکل کر جماعت میں داخل ہو جاتا ہے۔اور مجموعی حیثیت سے اس کے ساتھ سلوک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر وہ دیکھتا ہے۔کہ قوم کیا کرتی ہے۔اور سمجھتا ہے کہ قوم کی بہتری کے ساتھ اس کی بہتری وابستہ ہے کیونکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ میں قوم سے الگ رہ کر اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے کیا قوم اگر نباہ ہوتی ہے تو ہو میں اپنے آپ کو بچالوں۔کیونکہ وہ قوم سے علیحدہ رہ کر اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔یہ بات بلوغت کے بعد شروع ہوتی ہے۔بلوغت کے بعد ایک شخص اکیلا نہیں ہوتا۔بلکہ قوم کا فرد ہوتا ہے۔اور اس حد پر پہنچ کر اسے جن حالات میں سے گذرنا پڑتا ہے۔ان کا بیشتر حصہ وہ ہوتا ہے۔جو دوسروں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے جب تک دو سرے نہ ہوں۔تب تک وہ کام ہو نہیں سکتا۔اور جب وہ نہیں ہو سکتا۔تو اس کی اپنی تکمیل بھی نہیں ہو سکتی۔چنانچہ بلوغت کے بعد ہی شرائع بھی فرض ہوتی ہیں۔تمام اخلاق اور بہت سے دوسرے اعمال ایسے ہی ہیں کہ ان کے لئے کوئی دوسرا وجود ہونا چاہئے۔چنانچہ کوئی اچھا اخلاق انسان دکھا نہیں سکتا جب تک اس کے دوسروں کے ساتھ تعلقات نہ ہوں۔اور دوسروں کے ساتھ تعلقات ہو نہیں سکتے جب تک دوسرے نہ ہوں۔پس اخلاق دکھانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دوسرے ہوں اور دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات ہوں۔کیونکہ جب تک یہ نہ ہوں۔تب تک کوئی شخص کسی قسم کا اخلاق نہیں دکھا سکتا۔اسی طرح اگر وہ الگ رہے تو