خطبات محمود (جلد 10) — Page 35
35 ایک نے نقشہ بنا کر دکھایا۔تو بیگم نے کہا یہ ہے وہ نقشہ جو میں نے دیکھا۔بنانے والے نے کہا یہ بن تو جائیگا مگر اس کے ساتھ ایک شرط ہے اگر وہ پوری ہو جائے تو بن جائے گا۔بادشاہ نے کہا بتاؤ جو بھی شرط ہے پوری کی جائے گی۔اس نے کہا آپ روپوں کے توڑے کشتی میں لاد کر کشتی میں میرے ساتھ بیٹھ جائیں اور دریا کے دوسرے کنارہ تک چلیں۔بادشاہ نے ایسا ہی کیا جب کشتی چلی تو اس نے ایک توڑا اٹھا کر دریا میں پھینکتے ہوئے کہا بادشاہ سلامت مقبرہ بن تو جائے گا مگر اس طرح روپیہ خرچ ہو گا۔بادشاہ نے کہا کوئی پروا نہیں اسی طرح خرچ کرو۔پھر اس نے وہی بات کہتے ہوئے دوسرا توڑا پھینک دیا۔حتی کہ کنارے تک پہنچتے پہنچتے سارے توڑے پانی میں ڈال دیئے۔آخر جب اس نے دیکھا کہ بادشاہ اسی طرح روپیہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہے تو اس نے کہا ضرور ایسا مقبرہ بن جائے گا۔اس کے بعد اس نے بنانا شروع کیا۔اس سے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ سب باتیں غلط ہوتی ہیں۔بچی بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی بد دل نہیں ہونا چاہئے۔دیکھو تاجر کا روبار کرتے ہیں مگر ان کا کوئی ملازم خائن نکل آئے تو کیا وہ کام کاج بند کر دیتے ہیں کہ اب یہ کام نہیں کریں گے۔تمام دنیا کے کاموں میں کام کرنے والے خائن اور غبن کرنے والے بھی ہوتے ہیں مگر کام کرنے والے کراتے ہی ہیں۔پس اول تو ہر بات کے متعلق تحقیقات کرنی چاہئے کہ وہ جھوٹ ہے یا سچ۔پھر اگر وہ سچ ہو تو بھی تو کوئی ایسی بات نہیں جو ناممکن ہو۔سارے کے سارے انسان نیک نہیں ہوتے۔سارے کے سارے دیانت دار نہیں ہوتے۔مگر ان کی وجہ سے کام نہیں چھوڑ دیئے جاتے۔پھر بسا اوقات دیانتداروں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔پس اگر دیانتداری سے کام کرتے ہوئے نقصان ہو تو اس سے نہیں ڈرنا چاہئے۔پھر ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔جس کے لئے کسی قسم کی حد بندی نہیں ہے۔آنہ دو آنے نہیں بلکہ ضرورت کے وقت سب کچھ دینا ہو گا۔اگر کوئی اس کے لئے حد بندی کرتا ہے تو وہ بیعت پر قائم نہیں رہتا۔تم ہر ایک چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہو پھر دیکھو کامیابی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔تم لوگ اپنی اس تھوڑی سی قربانی کو ہی دیکھو جو قربانی کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے تمھاری کس قدر عزت اور توقیر کی جاتی ہے۔خطرناک سے خطرناک دشمن بھی مانتے ہیں کہ تم لوگ دین کی بڑی خدمت کر رہے ہو اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو اور کسی نقصان سے نہیں ڈرتے۔پس یہی بات ہے جس کی وجہ سے ہماری جماعت کا